’’وَنس فار آل‘‘ دراصل آئینی قانونی حقِ احتجاج کے خلاف ایک دھمکی ہے، شیر افضل خان مروت

اسلام آباد(قدرت روزنامہ)رکن قومی اسمبلی شیر افضل خان مروت کا کہنا ہے کہ اگر احتجاج کا حق ختم کرنا ہے تو پھر آئین سے آرٹیکل 16 نکال دیں، پُرامن احتجاج اس قوم کا آئینی حق ہے، دھمکیوں سے یہ حق ختم نہیں ہوگا۔ انہوں نے آج یہاں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ’’ونس فار آل‘‘ آئینی حقِ احتجاج کے خلاف دھمکی ہے، تو پھر آئین سے آرٹیکل 16 بھی نکال دیں۔
پُرامن احتجاج اس قوم کا آئینی حق ہے، دھمکیوں سے یہ حق ختم نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ فی الحال مجھے حکومت کو کوئی خطرہ نظر نہیں آرہا، پیپلزپارٹی اور ن لیگ کے کھاتے میں تاریخ میں یہ ذمہ داری رہے گی کہ آئین قانون کا حلیہ بگڑا ہے۔
پتون کلچر ڈے کی تقریب سے رکن قومی اسمبلی شیر افضل خان مروت نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 1992 میں عمران خان نے پاکستان کو ورلڈ کپ جتوایا۔
اس کے بعد اپنی ذاتی زندگی اور وسائل کو قوم کی خدمت کے لیے وقف کرتے ہوئے شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال قائم کیا، جبکہ نمل یونیورسٹی اور القادر یونیورسٹی جیسے تعلیمی ادارے بھی قائم کیے۔ اور آج تقریباً تین برس سے وہی شخص قید میں رہتے ہوئے بھی اس قوم کے حقِ آزادی اور خودمختاری کی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہے۔ یہ صرف ایک شخصیت کی داستان نہیں، بلکہ خدمت، قربانی اور عزم کی ایک تاریخ ہے۔
یہ ہماری پہچان ہے، یہ ہمارا فخر ہے۔
’’ونس فار آل‘‘ آئینی حقِ احتجاج کے خلاف دھمکی ہے، تو پھر آئین سے آرٹیکل 16 بھی نکال دیں۔ پُرامن احتجاج اس قوم کا آئینی حق ہے، دھمکیوں سے یہ حق ختم نہیں ہوگا۔"شیر افضل خان مروت pic.twitter.com/HvxBFKm4KP
— Sher Afzal Khan Marwat (@sherafzalmarwat) September 24, 2026
شیر افضل خان مروت کہا کہ محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا سب سے بڑا کارنامہ صرف پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانا نہیں تھا، بلکہ انہوں نے وطن کو ایک ایسی دفاعی قوت دی جس نے ممکنہ جنگوں کی راہ روکنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اگر پاکستان کے پاس یہ دفاعی صلاحیت نہ ہوتی تو شاید یہ قوم کئی جنگوں کا سامنا کر چکی ہوتی۔
