خیبرپختونخواہ میں معاملہ سہیل آفریدی تک نہیں رُکے گا بلکہ پسِ پردہ چیزیں بھی ایکسپوز ہوں گی، منیب فاروق
حتیٰ کہ سخت بیانات ،تقاریراور کیسز کے حوالے سے بھی گھیرا تنگ ہوگا، کچھ کیسز فاسٹ ٹریک پر چلتے نظر آئیں گے، صحافی منیب فاروق

لاہور(قدرت روزنامہ)صحافی منیب فاروق کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخواہ میں معاملہ سہیل آفریدی تک نہیں رُکے گا بلکہ پسِ پردہ چیزیں بھی ایکسپوز ہوں گی، حتیٰ کہ سخت بیانات ،تقاریراور کیسز کے حوالے سے بھی گھیرا تنگ ہوگا۔منیب فاروق نے اپنے وی لاگ میں بتایا کہ خیبرپختونخواہ حکومت کے حوالے سے معاملہ مجھے سہیل آفریدی تک رکتا نظر نہیں آرہا، خیبرپختونخواہ کی حکومت سے متعلق جو بھی اور معاملات چل رہے ہیں، چند اور چیزیں جن پر پردہ پڑا ہوا ہے، آئندہ چند دنوں میں وہ چیزیں شاید ایکسپوز ہوں گی، لیکن اصل ٹائم لائن کا ان کو پتا ہے جنہوں نے اقدامات اٹھانے ہیں۔
لیکن فیصلہ کرلیا گیا ہے کہ اس طرح سسٹم کو نہیں چلایا جاسکتا، اب آگے بڑھا جائے گا، جو بھی لوگ اس پورے معاملے میں ملوث رہے ہیں۔
یہ فیصلہ کر لیا گیا ہے کہ اب اس طرح نہیں چلا جا سکتا اور اب اگے بڑھا جائے گا، یہ معاملہ سہیل آفریدی پر روکھتا ہوا نظر نہیں آرہا بلکہ خیبرپختونخوا حکومت سے متعلق جن چیزوں پر پردہ پڑا ہے وہ بھی ایکسپوز ہوگی،سخت تقاریر کرنے والے کیخلاف بھی کھیرا تنگ ہوگا، آنے والے دنوں میں کچھ کیسز… pic.twitter.com/Gm7E6Lor2X
— Ali Hassan (@AliJrnlst) September 26, 2026
حتیٰ کہ وہ لوگ بھی جو بیانات یا سخت تقاریراور کیسز کے حوالے سے ، ان کے گرد بھی گھیرا تنگ ہوگا، کچھ کیسز ایسے ہیں جو آپ کو فاسٹ ٹریک پر چلتے نظر آئیں گے، جو پہلے بڑے سست روی سے چل رہے تھے، یہ خبر ہے کہ ان کیسز کے نتائج بھی جلد سامنے آئیں گے، قانونی طور پر کچھ چیزوں کی گنجائش نہیں ہوتی، جیسا کہ ہمارے سامنے ہے، سپریم کورٹ کے فیصلوں کی حکم عدولی کی کوئی گنجائش نہیں ہے ، لیکن ان فیصلوں کی حکم عدولی ہوئی۔
اس لئے یہ سلسلہ یہاں نہیں رکے گا بلکہ ضرورت پڑنے پر چند اور بھی اقدامات لئے جائیں گے۔ اسی طرح سربراہ مسلم لیگ ضیاء اعجازالحق کا کہنا ہے کہ میری نظر میں 4 اکتوبر کے لانگ مارچ سے پہلے خیبرپختونخواہ حکومت ختم ہوجائے گی۔ نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ریلیف کا بھی طریقہ ہوتا ہے دھمکیوں سے ریلیف نہیں دی جاتی، دھمکی آمیز گفتگو اگر کسی وزیر نے بھی کی ہے تو وہ بھی غلط ہے، اگر حکومت نے کی ہے تو وہ بھی غلط ہے، لیکن لانگ مارچ کی ایک حد ہوگی، پی ٹی آئی کا لانگ مارچ نہیں ہوگا، حکومت لانگ مارچ نہیں کرنے دے گی، 4 اکتوبر کے لانگ مارچ سے پہلے خیبرپختونخواہ کی حکومت ختم ہوجائے گی، چاہے ایمرجنسی لگے یا گورنرراج لگے،لیکن اس طرح ملک نہیں چل سکتا۔
اس کو خبر سمجھیں یا معلومات سمجھ لیں، میرا خیال ہے کہ اس کے بعد بھی پی ٹی آئی کو بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔
