صرف کردار اور مقامات بدلے ہیں، تاریخ وہی ہے جو خود کو دہرا رہی ہے، حامد میر کا تجزیہ

کچھ سال پہلے شہباز شریف وزیراعلیٰ پنجاب تھے، پیپلزپارٹی کی وفاقی حکومت کیخلاف احتجاج جائز قرار دیتے تھے، ان کی حکومت پر وہی الزامات لگائے گئے جو آج پی ٹی آئی کی حکومت پر لگے ہیں؛ سینئر صحافی کی پوسٹ


اسلام آباد(قدرت روزنامہ)سینئر صحافی اور تجزیہ کار حامد میر نے ملک میں میڈیا کی آزادی، سویلین بالادستی اور وفاق و صوبوں کے درمیان جاری روایتی رسہ کشی پر اپنا تجزیہ پیش کیا ہے۔ سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر اپنے جاری کردہ بیان میں ان کا کہنا تھا کہ آج کل میڈیا کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے، اس کے پیچھے کوئی ایک ادارہ یا فردِ واحد نہیں ہے بلکہ بہت سے ادارے اور سیاستدان مل کر میڈیا کو ناکردہ گناہوں کی سزا دے رہے ہیں کیونکہ بدقسمتی سے میڈیا ہمیشہ سے ایک سافٹ ٹارگٹ رہا ہے۔
ماضی کے سیاسی رویوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے یاد دلایا کہ جب عمران خان وزیراعظم تھے اور پیکا کا متنازعہ قانون لایا گیا تھا تو اس وقت شہباز شریف و دیگر رہنما ہمیں طعنے دیا کرتے تھے کہ جس عمران خان کو میڈیا نے پرموٹ کیا، آج وہی آپ کا گلا گھونٹ رہا ہے لیکن آج وقت بدل چکا ہے، شہباز شریف وزیراعظم ہیں اور میڈیا پر پابندیوں کے نئے ریکارڈ قائم کیے جا رہے ہیں، تحریک انصاف بھی ناراض ہے اور اربابِ اختیار بھی خفا ہیں، یہ وقت بھی گزر جائے گا اور ہم اسے یاد رکھیں گے۔

ایک اور ٹویٹ میں حامد میر نے وفاق اور صوبوں کی لڑائی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ بطور صحافی میں یہ منظر پہلی بار نہیں دیکھ رہا، چند سال قبل جب شہباز شریف وزیراعلیٰ پنجاب تھے اور پیپلزپارٹی کی وفاقی حکومت برسرِ اقتدار تھی، تب شہباز شریف وفاق کے خلاف سڑکوں پر احتجاج کو بالکل جائز قرار دیتے تھے۔
ان کا کہنا تھا ککہ اس وقت کے وفاقی وزیر قمر زمان کائرہ پنجاب حکومت پر وہی الزامات لگاتے تھے جو آج وفاقی حکومت کے پی میں پی ٹی آئی کی حکومت پر لگاتی ہے، اور شہباز شریف اپنے دفاع میں ہو بہو وہی باتیں کہتے تھے جو آج وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کہتے ہیں، صرف کردار اور مقامات بدل چکے ہیں لیکن تاریخ وہی ہے جو بار بار اپنے آپ کو دہراتی جا رہی ہے۔

WhatsApp
Get Alert