بلوچستان میں کوئٹہ انٹیگریٹڈ سیکیورٹی پروجیکٹ شروع کرنے کا فیصلہ، شہر میں 2,900 جدید کیمرے نصب ہوں گے

کوئٹہ(قدرت روزنامہ)بلوچستان میں سیکیورٹی اور پولیسنگ کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور دہشت گردی کے چیلنجز سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے کوئٹہ انٹیگریٹڈ سیکیورٹی پروجیکٹ شروع کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت سیکیورٹی اور پولیسنگ کے حوالے سے اعلیٰ سطحی اجلاس ہوا، جس میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ اور آئی جی پولیس بلوچستان نے صوبے کی سیکیورٹی صورتحال اور پولیسنگ سے متعلق اقدامات پر بریفنگ دی۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ کوئٹہ گرین ڈیجیٹل کوریڈور کے تحت شہر میں 2,900 جدید کیمروں کی تنصیب کی جائے گی، جبکہ کوئٹہ انٹیگریٹڈ سیکیورٹی پروجیکٹ کے تحت کوئیک رسپانس فورس کے نئے اسٹیشنز بھی قائم کیے جائیں گے۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ دہشت گردی کے چیلنجز سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے بلوچستان پولیس کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جا رہا ہے اور پولیس میں اصلاحات کے ساتھ محکمانہ خود احتسابی کا عمل بھی جاری ہے۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ غیر حاضری اور غفلت کے مرتکب 871 پولیس اہلکاروں کو ملازمت سے برطرف کیا گیا ہے، جبکہ مختلف شخصیات کے ساتھ تعینات 1,005 پولیس اہلکاروں کی خدمات واپس لے کر محکمہ پولیس کے حوالے کر دی گئی ہیں۔
وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے پولیس اہلکاروں کو دہشت گردی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ضروری تربیت اور مطلوبہ وسائل فراہم کرنے کی ہدایت کی۔
میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ “پولیس کو دہشت گردی کے خلاف میدان میں اتارا ہے تو مکمل سرپرستی بھی کریں گے۔”
انہوں نے کہا کہ حکومت اپنی بہادر پولیس اور سیکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پولیس اور دیگر سیکیورٹی اداروں کو ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ غیر ترقیاتی اخراجات پر قابو پاکر دستیاب وسائل عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ کیے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کو بلوچستان کے عام آدمی کے لیے کام کرنا ہے، جو سردی میں ٹھٹھرتا اور گرمی میں جھلستا ہے۔ عوام کی فلاح و بہبود اور بنیادی سہولیات کی فراہمی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔
