ایک بار پھر دھرنوں اور لانگ مارچز کے بھیانک سائے دوبارہ نمودار ہو رہے ہیں، وزیراعظم
ہم نے معیشت کو بڑی مشکل سے کھڑا کیا لیکن اگر کوئی اس کو نقصان پہنچائے گا تو کیا یہ ملک دشمنی کے مترادف نہیں؟ ہمارے اغیار بھی تعریف کرنے پر مجبور ہیں، آپ اس کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں؛ تقریب سے خطاب

اسلام آباد(قدرت روزنامہ)وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پاکستان تحریکِ انصاف کو خبردار کیا ہے کہ وہ ہوش کے ناخن لے اور ملک کو نقصان پہنچانے والے لانگ مارچ کا سلسلہ ختم کرے، بصورت دیگر حکومت نے ہر طرح کا کڑا انتظام کر رکھا ہے، عوام کی جان و مال کی حفاظت ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے، جسے ہر صورت نبھایا جائے گا، پاکستان کی اس وقت جو عالمی سطح پر شہرت ہے، ہمارے اغیار بھی تعریف کرنے پر مجبور ہیں، آپ اس کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں تو ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے، کسی صورت نہیں ہونے دیں گے، قانون اپنا راستہ اختیار کرے گا۔
اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہم نے ہمیشہ سنجیدگی اور نیک نیتی کے ساتھ مذاکرات کی کوشش کی، لیکن دوسری طرف کا واحد مقصد یہی تھا کہ یہ بات چیت کسی طرح بھی کامیاب نہ ہو سکے، اگر پی ٹی آئی اپنا لانگ مارچ ختم کر دے گی تو حکومت یقیناً ان کے ساتھ بیٹھنے اور بات چیت کرنے کے لیے تیار ہے۔
شہباز شریف نے مزید کہا کہ دھرنوں اور لانگ مارچز کے بھیانک سائے ایک بار پھر ملک میں نمودار ہو رہے ہیں اور اس قسم کی سیاست کا سب سے پہلا اور بڑا نشانہ ملک کی کمزور معیشت بنے گی، موجودہ حکومت نے بڑی مشکل سے معیشت کو پاؤں پر کھڑا کیا ہے لہذا اگر کوئی اس کو دوبارہ نقصان پہنچائے گا تو کیا یہ فعل ملک دشمنی کے مترادف نہیں ہو گا؟ ترقی کے اس سفر اور پہیے کو جان بوجھ کر جام کرنا ملک دشمنی کے علاوہ اور کیا ہے۔
اس سے قبل وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے بھی وزیراعظم کے مؤقف کی تائید کرتے ہوئے کہا تھا کہ بات چیت کا دروازہ کھل سکتا ہے لیکن اس کے لیے کچھ شرائط رکھی گئی ہیں، پی ٹی آئی اس غلط فہمی میں نہ رہے، اس بار جو مارچ نکلے گا اس کے بعد ملک میں مزید کسی مارچ کی گنجائش نہیں رہے گی کیونکہ اس کا مکمل سیاسی، آئینی اور انتظامی بندوبست کرلیا گیا ہے۔
