’’طلاق‘‘ کا اندراج ’’نادرا‘‘ میں نہ کرائیں تو کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے ؟

لاہور(قدرت روزنامہ)شادی اور طلاق زندگی کا حصہ ہیں، اور کئی ایسے جوڑے ہوتے ہیں جو مختلف وجوہات کی بنا پر شادی کو جاری نہیں رکھ پاتے تو طلاق لے کر علیحدگی اختیار کر لیتے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے ملک کے قوانین میں طلاق کا نادرا میں اندراج کرانا ضروری ہے اور اگر نہ کرائیں تو مستقبل میں کیا مشکلات پیش آ سکتی ہیں؟
میڈیا رپورٹ کے مطابق نادرا کے پبلک انفارمیشن آفیسر سید شباہت علی نے اس حوالے سے بتایا کہ نادرا سے جڑے دیگر مسائل کی طرح طلاق کا پراسس کچھ طویل ہے کیونکہ اس کے قوانین تھوڑے مختلف ہیں اور یہ دیگر ایشوز کی طرح صرف ایک بار نادرا آفس آنے سے حل نہیں ہوتا۔
نادرا افسر نے واضح کیا کہ جب تک طلاق نادرا کے ریکارڈ کا حصہ نہیں بنے گی، تب تک وہ خاتون جنہیں طلاق ہوئی ہے، وہ قانون اور ریکارڈ کی حد تک سابق شوہر کے فیملی رجسٹریشن سرٹیفکیٹ (FRC) کا حصہ بنی رہیں گی۔
بچوں کے امور، پاسپورٹ اور شادی کے مواقع پر مشکلات
اگر طلاق کو نادرا میں رجسٹرڈ نہ کرایا جائے تو مستقبل میں سنگین نوعیت کے مسائل جنم لے سکتے ہیں ، خاص طور پر بچوں کے تعلیمی اداروں میں داخلے، ٹریولنگ، پاسپورٹ کے حصول اور مستقبل میں شادی کے مواقع پر جب پیچیدگیاں پیش آتی ہیں، تو ان تمام معاملات کے حل کے لیے طلاق کے فوری بعد اس کی رجسٹریشن نادرا میں کرانا انتہائی ضروری ہو جاتا ہے۔
وراثت اور جائیداد کے تنازعات
پبلک انفارمیشن آفیسر نے ایک اور ممکنہ بڑے مسئلے سے متعلق آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر طلاق کو نادرا میں رجسٹرڈ نہیں کرایا گیا، تو ان دونوں (میاں اور بیوی) میں سے خدانخواستہ کسی ایک کی وفات کی صورت میں دوسرا فریق قانونی طور پر وراثت کے ترکے میں شامل ہو جائے گا۔
اس کی بنیادی وجہ یہ ہوگی کہ طلاق رجسٹر نہ ہونے پر نادرا کے جاری کردہ ایف آر سی میں سابق شریک حیات ہی موجودہ شریک حیات کے طور پر شو ہو رہا ہوگا، اور آج کئی گھرانوں کو طلاق رجسٹر نہ کرانے کی اس سنگین صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
حتمی اقدام
موجودہ قوانین اور ممکنہ قانونی و خاندانی پیچیدگیوں کے پیشِ نظر نادرا کے پبلک انفارمیشن آفیسر نے مشورہ دیا ہے کہ اگر کسی جوڑے میں طلاق ہو جائے، تو مصالحتی کونسل سے طلاق کا سرٹیفکیٹ مل جانے کے فوری بعد اسے نادرا میں رجسٹر کرا کر اپنا ڈیٹا لازمی اپ ڈیٹ کروانا چاہیے۔

WhatsApp
Get Alert