دبئی میں پاکستانیوں سمیت دیگر غیرملکیوں کی رہائش کا بڑا مسئلہ حل

دبئی (قدرت روزنامہ) دبئی میونسپلٹی کی جانب سے ایک انتہائی اہم اور نیا سرکلر جاری کیا گیا ہے، جس کے تحت اب دبئی کے 44 سے زائد علاقوں میں عمارتوں اور ولاز کو مشترکہ رہائش فراہم کرنے کی باضابطہ اجازت دے دی جائے گی، اس اقدام کا بنیادی مقصد امارات میں رہائشی و تعمیری نظام کو بہتر بنانا اور شہر کے شہریوں اور مقیم افراد کے معیارِ زندگی کو مزید بلند کرنا ہے۔
دبئی میونسپلٹی کی جانب سے جاری کردہ اس نئے گائیڈ اور فریم ورک کے مطابق ان 44 سے زائد علاقوں میں سے کچھ مخصوص حصوں اور زونز کو خصوصی طور پر صرف فیملیز کے لیے شیئرنگ رہائش کے طور پر مختص کیا گیا ہے، تاکہ خاندانی اقدار اور پرسکون ماحول کا مکمل تحفظ کیا جا سکے، یہ فیصلہ شہر میں بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر رہائشی سہولیات کو منظم کرنے کے لیے ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔
#BreakingNews Dubai to permit buildings, villas to offer shared accommodation in more than 44 areas
https://t.co/eeBEVSxWmu https://t.co/tA02cpLPT2— Khaleej Times (@khaleejtimes) October 7, 2026
حکام کا کہنا ہے کہ یہ گائیڈ لائنز دبئی میونسپلٹی کے اس جامع اپروچ کا حصہ ہیں جس کا مقصد بلڈنگ اور کنسٹرکشن کے پورے ایکو سسٹم کو ترقی دینا اور اس سے جڑی تمام سرگرمیوں کو قانونی دائرہ کار میں لانا ہے، اس پالیسی کے نفاذ سے دبئی بھر میں غیر منظم رہائشی طریقوں، مکانات میں غیر قانونی ہجوم، بھیڑ بھاڑ اور ٹریفک سمیت مختلف مسائل میں نمایاں کمی واقع ہوگی۔
اس کے علاوہ یہ نیا نظام رہائشیوں کے مکمل تحفظ، صاف ستھرے اور معیاری رہائشی ماحول کے فروغ کے ساتھ ساتھ کمیونٹی کے استحکام کو برقرار رکھنے میں بھی انتہائی مددگار ثابت ہوگا، دبئی میونسپلٹی کا یہ قدم تارکینِ وطن اور سرمایہ کاروں دونوں کے لیے ایک خوش آئند پیش رفت ہے، جس سے امارات میں رئیل اسٹیٹ اور رہائشی سیکٹر میں مزید شفافیت اور بہتری آئے گی۔
