پشتونوں کو بنیادی و معاشی حقوق سے محروم اور وسائل پر اختیار نہیں دیا جا رہا، اسمبلی نشستیں کروڑوں میں خریدنے والوں سے عوامی مسائل حل نہیں ہو سکتے:نواب ایاز خان جوگیزئی

بعض بلوچ اضلاع کم آبادی پر مشتمل جبکہ پشتون علاقوں میں ساڑھے چار لاکھ سے زائد نفوس، وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم اور جعلی کوٹہ سسٹم ناانصافی ہے


غریب والدین پیٹ کاٹ کر بچوں کو پڑھاتے ہیں مگر نوکری کے لیے بھی رشوت دینا پڑتی ہے، عوام قرضوں میں جکڑے جبکہ حکمران مہنگے جہازوں اور گاڑیوں پر عیاشی کر رہے ہیں
انتخابی نشان چھیننے کے باوجود عوام نے عمران خان کو مینڈیٹ دیا مگر اقتدار کم نشستیں جیتنے والوں کی جھولی میں ڈال دیا گیا: ژوب میں جلسے سے خطاب
ژوب (ڈیلی قدرت کوئٹہ)پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے مرکزی سیکرٹری نواب ایاز خان جوگیزئی، مرکزی سیکرٹری اطلاعات تعلیمند خان، ڈاکٹر قطب الدین شیرانی اور دیگر رہنماں نے کہا ہے کہ قیام پاکستان کے وقت یہ تصور پیش کیا گیا تھا کہ ملک میں بسنے والی تمام اقوام برابری کی بنیاد پر زندگی گزاریں گی، تاہم ان کے بقول آج پشتون قوم کو بنیادی، قومی اور معاشی حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔رہنماں نے کہا کہ پشتونوں کی روایتی پگڑی عزت اور وقار کی علامت رہی ہے، لیکن اسے دہشت گردی سے جوڑنے کے باعث پشتون اپنی شناخت کے ساتھ جانے میں بھی مشکلات محسوس کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پشتون وطن قدرتی وسائل سے مالا مال ہے، مگر مقامی آبادی کو اپنے وسائل پر اختیار حاصل نہیں، جس کی ایک بڑی وجہ پشتونوں کی باہمی بے اتفاقی اور سیاسی کمزوری بھی ہے۔مقررین نے کہا کہ اقوام نے اپنے وطن اور حقوق کے دفاع کے لیے قربانیاں دی ہیں، تاہم زمینوں اور وسائل سے متعلق فیصلوں میں مقامی آبادی کے مفادات کو نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق بلوچستان کو ملنے والے بجٹ اور وسائل کی تقسیم میں بھی پشتون علاقوں کو ان کا حق نہیں مل رہا، جبکہ روزگار کے مواقع میں میرٹ کے بجائے کوٹہ سسٹم کے ذریعے ناانصافی کی جا رہی ہے۔پشتونخوا میپ رہنماں نے اضلاع کی تشکیل اور آبادی کے تناسب پر بھی تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بعض بلوچ اضلاع کم آبادی پر قائم ہیں جبکہ پشتون علاقوں میں کئی اضلاع کی آبادی ساڑھے چار لاکھ سے بھی زیادہ ہے، اس لیے وسائل کی تقسیم آبادی اور ضرورت کے منصفانہ اصولوں کے تحت ہونی چاہیے۔رہنماں نے مختلف معاملات، بالخصوص اسمبلی کی نشستوں، ملازمتوں اور تبادلوں میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں کا بھی ذکر کیا۔ ان کے مطابق غریب والدین اپنے بچوں کو تعلیم دلانے کے لیے مشکلات برداشت کرتے ہیں، لیکن تعلیم مکمل کرنے کے بعد روزگار کے حصول کے لیے بھی انہیں مبینہ طور پر رقم ادا کرنا پڑتی ہے۔مقررین نے کہا کہ اسمبلیوں میں عوام کے حقیقی مسائل اجاگر کرنے کے بجائے ایسے افراد کے پہنچنے کا دعوی کیا جاتا ہے جو مبینہ طور پر کروڑوں روپے خرچ کرکے نشستیں حاصل کرتے ہیں، جس کے باعث عوامی مسائل مثر انداز میں سامنے نہیں آتے۔ملکی سیاسی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے رہنماں نے عمران خان کے ساتھ ہونے والے سلوک پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ انتخابی نشان واپس لیے جانے کے باوجود عوام نے عمران خان کے حق میں فیصلہ دیا، تاہم ان کے بقول حکومت ایسے افراد کو دی گئی جنہوں نے کم نشستیں حاصل کیں۔انہوں نے کہا کہ عام شہری اور ملک کا بچہ بچہ قرضوں کے بوجھ سے متاثر ہے، جبکہ حکمران خاندانوں کی جانب سے مہنگے جہازوں اور گاڑیوں پر اخراجات کیے جا رہے ہیں۔ دوسری جانب بچوں کو تعلیم اور صحت کی مناسب سہولیات میسر نہیں اور روزگار کے لیے کوئلے کی کانوں سمیت خطرناک مقامات پر کام کرنا پڑتا ہے، جہاں متعدد بچے اور نوجوان حادثات کا شکار ہو کر جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔پشتونخوا میپ رہنماں نے مطالبہ کیا کہ ملک میں آئین کی بالادستی، جمہوری اصولوں، میرٹ، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور تمام اقوام کو مساوی حقوق کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی قوتوں کو مفادات کے بجائے ملک اور عوام کے وسیع تر مفاد کو ترجیح دینی چاہیے۔مقررین نے کہا کہ پشتونخوا قومی پارٹی کی تاریخ وطن اور عوام کے لیے جدوجہد اور قربانیوں سے عبارت ہے۔ ان کے مطابق پارٹی کسی کو بندوق اٹھانے پر مجبور نہیں کرتی بلکہ عوام سے آئینی، جمہوری اور پرامن سیاسی جدوجہد میں شامل ہونے کی اپیل کرتی ہے۔

WhatsApp
Get Alert