ریاض ایئرپورٹ پر دھماکا، متعدد افراد زخمی، رائٹرز

ریاض (قدرت روزنامہ)سعودی عرب میں ریاض ائیرپورٹ پر دھماکے سے متعدد افراد زخمی ہو گئے۔

سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ہفتے کے روز دھماکے کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہو گئے جبکہ ہوائی اڈے کے بعض حصوں سے مسافروں کو نکال لیا گیا۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق دو عینی شاہدین اور واقعے سے آگاہ دو افراد نے دھماکے اور زخمیوں کی اطلاع دی۔

ایک عینی شاہد نے بتایا کہ دھماکے کے بعد ہوائی اڈے کے اندر متعدد افراد زمین پر زخمی حالت میں پڑے دکھائی دیے۔ عینی شاہد کا کہنا تھا کہ ایک درجن سے زائد ایمبولینسیں تیزی سے ہوائی اڈے کی جانب آتی ہوئی دکھائی دیں۔

رائٹرز اور دیگر بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق 8 اکتوبر کو ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملوں کے دوران سعودی ایئرلائنز کے ایک طیارے کو نقصان پہنچا، جبکہ سعودی حکام نے بعد ازاں تصدیق کی کہ ان حملوں میں تین سعودی شہری ہلاک اور متعدد افراد زخمی ہوئے۔ حوثیوں نے بھی ریاض ایئرپورٹ کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا۔

ریاض ایئرپورٹ پر پروازیں متاثر، مسافروں کیلئے ہدایات جاری
پروازوں کی نگرانی کرنے والی ویب سائٹ فلائٹ ریڈار 24 کے مطابق ریاض آنے والی پروازوں کو یا تو منسوخ کر دیا گیا یا متبادل ہوائی اڈوں کی جانب منتقل کر دیا گیا، ایک موقع پر ہوائی اڈے کے اوپر صرف ایک ہیلی کاپٹر پرواز کرتا دکھائی دیا۔

ہوائی اڈے کی انتظامیہ نے مسافروں کو ہدایت کی کہ ایئرپورٹ روانہ ہونے سے پہلے اپنی متعلقہ ایئرلائن سے رابطہ کریں اور پرواز کی تازہ صورتِ حال معلوم کر لیں۔

سعودی حکام کا فوری ردعمل سامنے نہ آ سکا
رائٹرز کے مطابق سعودی حکومت کے میڈیا آفس اور سعودی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے واقعے سے متعلق تبصرے کی درخواستوں کا فوری جواب نہیں دیا۔

تاحال دھماکے کی وجوہات، زخمیوں کی حتمی تعداد اور واقعے کی ذمہ داری سے متعلق کوئی مصدقہ تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔

حوثی حملوں میں اضافے کے دوران واقعہ پیش آیا
یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب یمن کے ایران نواز حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب پر میزائل حملوں میں اضافے کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔

رائٹرز کے مطابق رواں ہفتے ریاض ایئرپورٹ کو اس سے پہلے بھی دو مرتبہ نشانہ بنایا جا چکا ہے، ان حملوں میں چار افراد ہلاک اور دیگر زخمی ہوئے تھے جبکہ ایک طیارے کو بھی شدید نقصان پہنچا تھا۔

تاہم ہفتے کے روز ہونے والے دھماکے اور حوثیوں کے حملوں کے درمیان تعلق کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں کی گئی۔

WhatsApp
Get Alert