موٹ کورٹ سے طلبہ میں تنقیدی سوچ اور پیشہ ورانہ مہارتیں اجاگر ہوں گی، چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ جسٹس کامران خان ملاخیل

کوئٹہ(قدرت روزنامہ)بلوچستان یونیورسٹی آف انفارمیشن ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اینڈ مینجمنٹ سائنسز (BUITEMS) نے اپنے اسکول آف لاء میں موٹ کورٹ (Moot Court) کا آغاز کر دیا، جو بلوچستان میں قانونی تعلیم کے فروغ، طلبہ کی عملی تربیت اور عدالتی شعبے کے لیے باصلاحیت قانون دان تیار کرنے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔ افتتاحی تقریب کے مہمانِ خصوصی چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ جناب جسٹس کامران خان ملاخیل تھے۔ تقریب میں وائس چانسلر بیوٹمز،پروفیسر ڈاکٹر خالد حفیظ، پرو وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر میر وائس کاسی، رجسٹرار ہائی کورٹ، سینئر وکیل علی احمد کرد، سینیئر ججز، وکلائ، بیوٹمز کے افسران و طلباء اور دیگر مہمان شریک ہوئے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر بیوٹمز پروفیسر ڈاکٹر خالد حفیظ نے کہا کہ بیوٹمز سکول آف لاء معیاری تعلیم، جدید تحقیق و علوم کے ذریعے قانونی تعلیم کو عصرِ حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں کردار ادا کر رہی ہے,انہوں نے کہا کہ قانونی تعلیم کو روایتی تدریسی طریقوں تک محدود رکھنے کے بجائے جدید سائنسی تحقیق، ٹیکنالوجی اور عملی مہارتوں سے مربوط کیا جائے گا۔ اس ضمن میں مصنوعی ذہانت (AI)، فرانزک سائنسز اور دیگر جدید شعبہ جات کو قانونی تعلیم و تحقیق کے ساتھ منسلک کیا جائے گا، تاکہ طلبہ جدید دور کے پیچیدہ قانونی معاملات کو سمجھنے، سائنسی شواہد کا تجزیہ کرنے اور مؤثر قانونی دلائل پیش کرنے کی صلاحیت حاصل کر سکیں۔
بیوٹمز کا مقصد ایسے قانون دان تیار کرنا ہے جو نہ صرف قانون کے بنیادی اصولوں پر عبور رکھتے ہوں بلکہ جدید ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل شواہد، فرانزک تجزیے اور تحقیق کے مؤثر استعمال سے بھی واقف ہوں۔ اس طرح کے تعلیمی امتزاج سے طلبہ کو مستقبل کے قانونی چیلنجز کا سامنا کرنے، انصاف کی فراہمی میں معاونت کرنے اور معاشرے میں قانون کی بالادستی کے فروغ کے لیے بہتر طور پر تیار کیا جا سکے گا,موٹ کورٹ کا قیام اسی وژن کی عملی عکاسی کرتا ہے۔
چیف جسٹس بلوچستان جناب جسٹس کامران خان ملاخیل نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موٹ کورٹ قانون کے طلبہ کو فرضی مقدمات کے ذریعے عدالتی کارروائی کی مشق، قانونی تحقیق، مقدمات کی تیاری، متعلقہ قوانین اور عدالتی مطالعے، دلائل کی تشکیل اور عدالت کے سامنے مؤثر انداز میں اپنا مؤقف پیش کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ اس تربیت سے طلبہ میں اعتماد، تنقیدی سوچ، پیشہ ورانہ اخلاقیات اور قانونی مسائل کے تجزیے کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے، جو ایک کامیاب وکیل کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ جناب جسٹس کامران خان ملاخیل نے کہا کہ بیوٹمز سکول آف لاء کی تکنیکی معاونت اور تعلیمی معیار قائم رکھنے کے لئے تعاون کرتے رہیں گے۔ کیونکہ بلوچستان میں قانونی تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے اور عدالتی نظام کے لیے قابل، باصلاحیت اور جدید علوم سے آراستہ پیشہ ور افراد تیار کرنے پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ بیوٹمز نے اپنے قیام سے بلوچستان میں اعلیٰ تعلیم کے فروغ، جدید تعلیمی رجحانات کے تعارف اور نوجوانوں کو پیشہ ورانہ میدان میں آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اسکول آف لاء میں موٹ کورٹ کا آغاز خوش آئند ہراس سے قانونی تعلیم کو عملی تربیت اور جدید تحقیق سے مربوط کرنے مدد ملے گی۔
