پاکستان نے ترکیہ میں منعقدہ عالمی فوجی ڈرون مقابلے میں دوسری پوزیشن حاصل کرلی

انقرہ (قدرت روزنامہ)33 ممالک کی شرکت والے پہلے بین الاقوامی فوجی ڈرون مقابلے میں ترکیہ نے پہلی، پاکستان نے دوسری اور اٹلی نے تیسری پوزیشن حاصل کی، پاکستانی ٹیم کی کارکردگی کو ڈرون ٹیکنالوجی میں بڑھتی مہارت کا مظہر قرار دیا گیا۔
پاکستان نے ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ میں منعقدہ بین الاقوامی فوجی ڈرون مقابلے میں دوسری پوزیشن حاصل کرلی۔ ترکیہ کے سفارت خانے کے مطابق مقابلے میں دنیا کے 33 ممالک کی ٹیموں نے حصہ لیا۔ ’ بہترین بین الاقوامی فوجی ڈرون ٹیم مقابلہ 2026‘(بی آئی ایم ڈی ٹی سی) ہفتے کو منعقد ہوا، جو اپنی نوعیت کا پہلا مقابلہ تھا۔ ترکیہ نے پہلی، پاکستان نے دوسری، اٹلی نے تیسری جبکہ فرانس نے چوتھی پوزیشن حاصل کی۔
ترک اخبار ’ترکیہ ٹوڈے‘ کے مطابق مقابلے میں ہر ملک کو زیادہ سے زیادہ 3 ارکان پر مشتمل ٹیم بھیجنے کی اجازت تھی، جس میں کم از کم 2 ایسے پائلٹ شامل ہونا ضروری تھے جو فرسٹ پرسن ویو (ایف پی وی) ڈرون اڑانے کی مہارت رکھتے ہوں اور حاضر سروس یا ریزرو فوجی اہلکار ہوں۔
مقابلے کے دوران مقررہ راستہ کم سے کم وقت میں مکمل کرنے والی ٹیموں نے فائنل مرحلے کے لیے کوالیفائی کیا۔ اسلام آباد میں ترکیہ کے سفارت خانے نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ترک اور پاکستانی ٹیموں کو مبارک باد دیتے ہوئے ان کی کارکردگی کو مہارت، درستگی اور بغیر پائلٹ فضائی نظام میں بڑھتے ہوئے تجربے کا ثبوت قرار دیا۔
پاکستان اور ترکیہ کے درمیان دفاعی اور عسکری شعبوں میں قریبی تعاون موجود ہے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق پاکستان نے مئی 2025 میں بھارت کے ساتھ مختصر فوجی تصادم کے دوران ترک ساختہ وائی آئی ایچ اے تھری اور ایسیس گارڈ سونگار ڈرونز کے علاوہ مقامی طور پر تیار کردہ شاہپر ٹو بغیر پائلٹ طیارے بھی استعمال کیے تھے۔ شاہپر ٹو سرکاری ادارے گلوبل انڈسٹریل اینڈ ڈیفنس سلوشنز کا تیار کردہ ڈرون ہے۔ دفاعی ٹیکنالوجی میں خود انحصاری اور جدید عسکری صلاحیتوں میں اضافے کے لیے پاکستان کی کوششوں میں بغیر پائلٹ فضائی نظام کو اہمیت حاصل ہے۔
پاکستان اور ترکیہ نے حالیہ مہینوں میں دفاعی تعاون مزید مضبوط بنانے کے لیے بھی اقدامات کیے ہیں۔ اگست میں پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب نے مکہ مکرمہ میں سہ فریقی دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت کسی ایک رکن ملک پر حملے کو تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ اس معاہدے کو تینوں ممالک کے درمیان کئی دہائیوں سے جاری سیکیورٹی تعاون کو باضابطہ شکل دینے کی کوشش قرار دیا گیا۔ انقرہ میں ڈرون مقابلے میں پاکستان کی دوسری پوزیشن کو بھی ترکیہ کے ساتھ دفاعی تعلقات اور جدید فوجی ٹیکنالوجی کے شعبے میں پاکستانی مہارت کے حوالے سے اہم پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔
