جسٹس محسن اختر کیانی نے بتا دیا کہ عہدے، نوکریاں اور تنخواہیں ہمیشہ قائم نہیں رہتی


اسلام آباد (قدرت روزنامہ) رکن قومی اسمبلی شیر افضل خان مروت کا کہنا ہے کہ جسٹس محسن اختر کیانی نے بتا دیا کہ عہدے، نوکریاں اور تنخواہیں ہمیشہ قائم نہیں رہتی، انسان اپنے اعمال سے تاریخ رقم کرتا ہے، افسوس! باضمیر لوگ رخصت ہو رہے ہیں۔ رکن اسمبلی شیر افضل خان مروت نے جسٹس محسن اختر کیانی کے استعفے پر اپنے ردِعمل میں کہا کہ جسٹس محسن اختر کیانی میرے دوست رہے ہیں، ہم نے ایک ساتھ پریکٹس کی ہے۔
جسٹس اختر کیانی نے بتا دیا کہ عہدے، نوکریاں اور تنخواہیں ہمیشہ قائم نہیں رہتی، لیکن انسان اپنے اعمال سے تاریخ رقم کرتا ہے۔ افسوس کہ آج بااصول اور باضمیر لوگ آہستہ آہستہ رخصت ہو رہے ہیں۔ محسن اختر کیانی کو اسلام آباد ہائی کورٹ کا چیف جسٹس ہونا چاہیے تھا۔

اس جج کو چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ ہونا چاہیئے تھا، کس بنیاد پر جوڈیشل کمیشن نے 16نمبر کے جج کو یہاں چیف جسٹس بنا دیا؟ نئے ججز میں اچھے ججز بھی ہیں،ان سے توقعات ہیں کہ نظام کسی اچھی طرف جائے گا۔
واضح رہے لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس محسن اختر کیانی نے استعفیٰ دے دیا ہے، استعفے کے متن کے مطابق ذاتی وجوہات، صحت کے مسائل اور ضمیر کی آواز پر استعفیٰ دیا، عدالتی کیریئر کے دوران 23 ہزار سے زائد مقدمات کے فیصلے کیے، 26 ویں اور 27 ویں آئینی ترامیم نے ہائی کورٹس کی آزادی اور ادارہ جاتی خود مختاری کو متاثر کیا۔ جسٹس محسن اختر کیانی کا کہنا ہے کہ عدالتی آزادی اور انصاف کے عمل پر عوامی اعتماد کو شدید نقصان پہنچا ہے، سائلین کی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے جبکہ انصاف کے متلاشی افراد کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
استعفے میں جسٹس محسن اختر کیانی نے لکھا ہے کہ ضمیر اجازت نہیں دیتا کہ موجودہ حالات میں بطور جج فرائض جاری رکھوں، وکالت میں واپس آ کر عوام کے حقوق کے تحفظ اور قانونی شعور اجاگر کروں گا. یاد رہے کہ جسٹس محسن اختر کیانی 23 دسمبر 2015ء کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج تعینات ہوئے تھے رواں سال اپریل میں جسٹس محسن اختر کیانی کا اسلام آباد ہائی کورٹ سے لاہور ہائی کورٹ تبادلہ ہوا تھا۔

WhatsApp
Get Alert