خان شہید کی برسی پر 2 دسمبر کو تاریخی جلسہ ہوگا،گیس غائب مگر 18 ہزار کے بل عوام دشمنی کا کھلا ثبوت ہیں، کیسکو اور ایس ایس جی سی کے ذیلی دفاتر کے گھیراؤ کیا جائیگا : پشتونخوامیپ

کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ) پشتونخواملی عوامی پارٹی ضلع کوئٹہ نے خان شہید عبدالصمد خان اچکزئی کی شہادت کی 53ویں برسی کے موقع پر 2 دسمبر 2026 کو کوئٹہ میں عظیم الشان جلسہ عام منعقد کرنے کا اعلان کرتے ہوئے اس کی کامیابی کے لیے بھرپور تیاریوں کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں یکم نومبر کو ضلع کمیٹی کا اجلاس طلب کرلیا گیا ہے۔اس بات کا فیصلہ پشتونخوامیپ ضلع کوئٹہ کے ایگزیکٹیوز کے اجلاس میں کیا گیا، جو پارٹی کے صوبائی سینئر نائب صدر اور ضلع کوئٹہ کے سیکرٹری سید شراف آغا کی زیر صدارت مرکزی سیکرٹریٹ میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں خان شہید عبدالصمد خان اچکزئی کی قومی، وطنی، سیاسی، جمہوری، ادبی اور صحافتی خدمات سمیت ان کی لازوال قربانیوں پر خراج عقیدت پیش کیا گیا۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ یکم نومبر کے ضلع کمیٹی اجلاس میں جلسہ عام کے لیے عوامی رابطہ مہم، تشہیری سرگرمیوں اور مختلف کمیٹیوں کی تشکیل سے متعلق لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ سریاب اور کچلاک تحصیلوں کی کانفرنسز کے انعقاد کے لیے تاریخیں بھی مقرر کی جائیں گی۔اجلاس میں تنظیمی فعالیت اور سیاسی سرگرمیوں کو تیز کرنے پر زور دیا گیا، جبکہ غیر فعال ارکان کو اپنی تنظیمی و سیاسی سرگرمیاں فوری طور پر فعال بنانے کی ہدایت کی گئی۔ اجلاس میں خبردار کیا گیا کہ ہدایات پر عمل نہ کرنے کی صورت میں متعلقہ ارکان کے خلاف تادیبی کارروائی کی جاسکتی ہے۔ اجلاس میں پارٹی کے صوبائی آفس سیکرٹری ملک عمر کاکڑ اور صوبائی رابطہ سیکرٹری گل خلجی نے بھی شرکت کی۔اجلاس میں کوئٹہ میں بجلی کی غیر اعلانیہ اور طویل لوڈشیڈنگ، مکمل بندش اور کم وولٹیج کے مسائل پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ شہر کے مخصوص علاقوں کے علاوہ بیشتر علاقوں کے صارفین مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ بیان میں کیسکو کے ذیلی دفاتر کی کارکردگی پر بھی تنقید کی گئی اور مطالبہ کیا گیا کہ اعلی حکام عوامی شکایات کا فوری نوٹس لیں۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ مسائل حل نہ ہونے کی صورت میں پارٹی کا وفد کیسکو حکام سے ملاقات کرکے ثبوتوں کے ساتھ شکایات پیش کرے گا۔اجلاس میں سوئی سدرن گیس کمپنی کی جانب سے اضافی بلوں اور گیس کی کم فراہمی پر بھی سخت تنقید کی گئی۔ بیان کے مطابق 25 سے 100 یونٹ سے کم استعمال کرنے والے بعض صارفین کو 18 ہزار روپے سے زائد کے بل بھیجے گئے ہیں، جبکہ ایک ہی نوعیت کے کم استعمال کے باوجود مختلف صارفین کے بلوں میں نمایاں فرق پایا گیا ہے۔ اجلاس میں کمپنی سے بلنگ کے طریقہ کار، میٹر ریڈنگ اور عملے کی غفلت کا جائزہ لینے اور صارفین کو درپیش مشکلات دور کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔اجلاس میں سردی کے موسم سے قبل گیس کی مکمل اور مناسب پریشر کے ساتھ فراہمی یقینی بنانے پر بھی زور دیا گیا۔ پارٹی نے خبردار کیا کہ اگر گیس و بجلی کی لوڈشیڈنگ، بندش اور اضافی بلوں کے مسائل حل نہ کیے گئے تو متعلقہ کمپنیوں کے دفاتر کے سامنے احتجاج کیا جائے گا۔
