بی آئی ایس پی سے کوئٹہ کی 42 ہزار سے زائد مستحق خواتین کا اخراج غریبوں پر معاشی خودکش حملہ ہے: شہری حلقے

مہنگائی کے بدترین دور میں سہ ماہی وظائف بند کر کے لاکھوں خاندانوں کو نانِ شبینہ کا محتاج بنا دیا گیا، نااہلی کے فیصلوں پر فوری نظرثانی کی جائے

کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ) بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) کے تحت ملک بھر میں مالی معاونت حاصل کرنے والی لاکھوں خواتین کو پروگرام سے خارج کردیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں مجموعی طور پر ساڑھے 22 لاکھ سے زائد خواتین کی امدادی رقوم بند ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ان خواتین میں کوئٹہ سے تعلق رکھنے والی 42 ہزار 231 خواتین بھی شامل ہیں، جنہیں پروگرام سے نکالے جانے کے بعد مالی معاونت سے محروم ہونا پڑے گا۔ذرائع کے مطابق بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت مستحق خاندانوں کی فہرستوں کو دوبارہ جانچنے اور گھرانوں کی معاشی و سماجی صورتحال کا جائزہ لینے کے عمل کے دوران بڑی تعداد میں خواتین کو پروگرام سے خارج کیا گیا ہے۔ اس عمل کے نتیجے میں ملک بھر میں تقریبا 22 لاکھ 50 ہزار خواتین کو بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی امداد کے لیے نااہل قرار دیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ذرائع کے مطابق کوئٹہ میں بھی بڑی تعداد میں خواتین اس فیصلے سے متاثر ہوئی ہیں اور 42 ہزار 231 خواتین کو پروگرام کی موجودہ فہرست سے خارج کیا گیا ہے۔ ان خواتین میں ایسے گھرانوں سے تعلق رکھنے والی خواتین بھی شامل ہیں جو گزشتہ کئی برسوں سے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے سہ ماہی بنیادوں پر مالی امداد حاصل کرتی رہی ہیں۔بتایا جاتا ہے کہ مستحقین کی فہرستوں کی ازسرنو جانچ پڑتال کے دوران مختلف سرکاری ریکارڈ، معاشی صورتحال، خاندان کے اثاثہ جات، آمدن اور دیگر دستیاب معلومات کی بنیاد پر خواتین کی اہلیت کا دوبارہ جائزہ لیا گیا۔ جن خاندانوں کے بارے میں مقررہ معیار کے مطابق یہ فیصلہ سامنے آیا کہ وہ اب پروگرام کی مالی معاونت کے معیار پر پورا نہیں اترتے، انہیں امدادی پروگرام سے خارج کردیا گیا۔ذرائع کے مطابق حکومت کی جانب سے مستحق خاندانوں تک مالی امداد پہنچانے اور غیر مستحق افراد کو پروگرام سے نکالنے کے لیے مسلسل ڈیٹا اپ ڈیٹ کیا جا رہا ہے، تاکہ امدادی رقم ان خاندانوں تک پہنچائی جاسکے جو واقعی مالی مشکلات کا شکار ہیں۔ تاہم دوسری جانب پروگرام سے نکالی جانے والی خواتین اور ان کے خاندانوں کی جانب سے اس عمل پر تحفظات کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے۔کوئٹہ میں پروگرام سے خارج ہونے والی 42 ہزار 231 خواتین کے حوالے سے بھی متاثرہ خاندانوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔ کئی خاندانوں کے لیے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی سہ ماہی رقم گھریلو اخراجات، بچوں کی ضروریات، علاج معالجے، خوراک اور دیگر بنیادی ضروریات پوری کرنے کا اہم ذریعہ رہی ہے۔ ایسے میں امداد کا سلسلہ بند ہونے سے کم آمدنی والے خاندانوں پر اضافی مالی دبا پڑنے کا خدشہ ہے۔متاثرہ خواتین کا کہنا ہے کہ اگر انہیں دوبارہ سروے یا ڈیٹا کی بنیاد پر نااہل قرار دیا گیا ہے تو انہیں اس کی وجوہات سے آگاہ کیا جائے اور اگر کسی خاتون کا اخراج غلط معلومات، ریکارڈ کی غلطی یا نامکمل ڈیٹا کی وجہ سے ہوا ہے تو اسے اپیل اور نظرثانی کا مناسب موقع فراہم کیا جائے۔دوسری جانب بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے حوالے سے یہ پالیسی بھی اہم قرار دی جارہی ہے کہ امدادی رقم صرف ان خاندانوں کو فراہم کی جائے جو مقررہ اہلیت کے معیار پر پورا اترتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے مستحقین کے ڈیٹا کی باقاعدگی سے جانچ پڑتال کی جاتی ہے تاکہ مالی امداد کے نظام میں شفافیت برقرار رکھی جاسکے اور سرکاری وسائل حقیقی مستحق خاندانوں تک پہنچیں۔ملک بھر میں لاکھوں خواتین کے پروگرام سے اخراج کے بعد یہ معاملہ خاص طور پر ان گھرانوں کے لیے اہم بن گیا ہے جن کا روزمرہ گزارا جزوی یا مکمل طور پر بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی مالی معاونت پر منحصر ہے۔ متاثرہ خواتین کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ نااہلی کے فیصلوں کی وجوہات واضح کی جائیں اور جن خواتین کو غلطی سے فہرست سے نکالا گیا ہے ان کے کیسز کی دوبارہ جانچ کی جائے۔کوئٹہ میں بھی 42 ہزار 231 خواتین کے اخراج کے بعد شہری حلقوں کی جانب سے اس امر پر زور دیا جا رہا ہے کہ بلوچستان جیسے معاشی مشکلات سے دوچار صوبے میں کم آمدنی والے خاندانوں کے معاملات کو خصوصی طور پر مدنظر رکھا جائے۔ خواتین کا کہنا ہے کہ اگر کسی خاندان کی معاشی صورتحال میں بہتری نہیں آئی تو صرف ریکارڈ میں معمولی تبدیلی کی بنیاد پر امداد بند ہونے سے ان کے لیے مشکلات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ذرائع کے مطابق پروگرام سے اخراج کے بعد متاثرہ خواتین اپنی اہلیت اور موجودہ حیثیت کے بارے میں متعلقہ مراکز سے معلومات حاصل کرسکتی ہیں اور اگر انہیں یقین ہو کہ ان کا اخراج غلط طور پر ہوا ہے تو دستیاب طریقہ کار کے تحت اپنی شکایت یا نظرثانی کی درخواست جمع کراسکتی ہیں۔بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ملک میں غریب اور کم آمدنی والے خاندانوں خصوصا خواتین کو مالی معاونت فراہم کرنے کا ایک بڑا سماجی تحفظ کا پروگرام ہے۔ اس پروگرام کے ذریعے لاکھوں خاندانوں کو مالی امداد فراہم کی جاتی ہے، تاہم وقتا فوقتا مستحقین کے ڈیٹا کی جانچ اور دوبارہ سروے کے نتیجے میں بعض خاندانوں کو پروگرام سے خارج جبکہ نئے مستحق خاندانوں کو شامل کیا جاتا ہے۔ملک بھر سے ساڑھے 22 لاکھ خواتین کے حالیہ اخراج اور صرف کوئٹہ سے 42 ہزار 231 خواتین کے فہرست سے باہر ہونے کے بعد متاثرہ خاندانوں کی نظریں اب متعلقہ حکام کی جانب سے وضاحت، نظرثانی کے طریقہ کار اور آئندہ امدادی پالیسی پر مرکوز ہیں۔

WhatsApp
Get Alert