پی ٹی آئی کی صوبائی پارلیمانی پارٹی کی گورنر راج اور ایمرجنسی کو واپس لینے کیلئے وفاقی حکومت سے مذاکرات کی حمایت

پشاور(قدرت روزنامہ)تحریک انصاف کی صوبائی پارلیمانی پارٹی نے گورنر راج اور ایمرجنسی سمیت دیگر مسائل کے حل کے لیے وفاقی حکومت سے مذاکرات کی حمایت کردی۔
ذرائع کے مطابق بیشتر اراکین نے سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پورکو وفاق سے ہونے والے مذاکراتی عمل کا حصہ بنانے کی بھی حمایت کی ہے۔
ذرائع کے مطابق پارلیمانی پارٹی نے گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد کارکنوں کے احتجاج کے لیے نہ نکلنے کو اچھا فیصلہ قرار دیا اور کہا کہ ورکرز باہر نکلتے تو 9 مئی جیسے واقعات کا سامنا کرنا پڑ سکتا تھا۔
پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی پارلیمانی پارٹی کے آن لائن ہونے والے اجلاس ہوا جس میں علی امین گنڈاپورسمیت 40 سے زیادہ اراکین اسمبلی نے شرکت کی جبکہ اجلاس میں بیرسٹر گوہر اور نورالحق قادری بھی شریک تھے۔
ذرائع کے مطابق پارلیمانی پارٹی کے بیشتر اراکین کا کہنا تھا کہ بات چیت کے ذریعے گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کو واپس لینے کی راہ ہموار کی جائے،گورنر راج اور ایمرجنسی کے خاتمے کے بعد پی ٹی آئی کا مینڈیٹ واپس ملے گا۔
اراکین کا کہنا تھا کہ علی امین گنڈاپور کو وفاق سے ہونے والے مذاکراتی عمل کا حصہ بنایا جائے، پارلیمانی پارٹی کے رکن کی شرکت سے تمام معاملات باہمی مشاورت سےآگے بڑھائے جا سکیں گے۔
اراکین کا کہنا تھا کہ گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد کارکنوں کا احتجاج کے لیے نہ نکلنا اچھا فیصلہ تھا کیونکہ ورکرز باہر نکلتے تو نو مئی جیسے واقعات کا سامنا کرنا پڑ سکتا تھا۔
اس موقع پر چئیرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا کہ قومی اسمبلی میں بھی اکثریتی اراکین وفاقی حکومت سے مذاکرات کے حامی ہیں جبکہ نورالحق قادری نے کہا کہ مشکل وقت میں صبر و تحمل سے کام لیا جائے۔
اس حوالے سے صوبائی سیکرٹری اطلاعات پی ٹی آئی شوکت یوسفزئی نے جیونیوز سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہم مذاکرات کے حامی ہیں وفاقی حکومت تلخیاں کم کرے اور گورنر راج اور ایمرجنسی کو ہٹایا جائے۔
شوکت یوسفزئی نے کہا کہ مذاکراتی عمل کے لیے اگر علی امین پارلیمانی پارٹی کا انتخاب ہیں تو کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہیے، علی امین گنڈاپور بانی پی ٹی آئی کے پرانے اور وفادار ساتھی ہیں۔
شوکت یوسفزئی نے کہا کہ اداروں کے خلاف کسی نے کچھ کہا تو اس کا پی ٹی آئی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
