پاکستان ناکام ریاست نہیں ہے بلکہ اس کی موجودہ قیادت ایک ناکام نسل کے ہاتھوں میں ہے، حامد میر


لاہور (قدرت روزنامہ) سینئر صحافی حامد میر نے اپنے کالم میں لکھا کہ پاکستان ناکام ریاست نہیں ہے بلکہ اس کی موجودہ قیادت ایک ناکام نسل کے ہاتھوں میں ہے، یہاں قائدین کی بہتات اور قیادت کا فقدان ہے۔ روزنامہ جنگ میں شائع اپنے کالم میں انہوں نے لکھا کہ جسٹس جاوید اقبال کی اپنی خود نوشت کا نام ’’اپنا گریباں چاک‘‘ ہے۔
اس کتاب میں انہوں نے لکھا ہے کہ پاکستان ناکام ریاست نہیں ہے بلکہ اسکی موجودہ قیادت ایک ناکام نسل کے ہاتھوں میں ہے۔ یہاں قائدین کی بہتات ہے اور قیادت کا فقدان ہے۔ پاکستان ایک سیاسی اور جمہوری جدوجہد کی پیداوار ہے لیکن آج پاکستان میں سیاست اور جمہوریت کو ایک مذاق بنا دیا گیا ہے۔ کسی کو یہ سمجھ نہیں آ رہی کہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت نئی نسل کو پاکستان کے تصور کے بارے میں کنفیوژ کیا جا رہا ہے۔
اگر اقبال کا تصورِ پاکستان سے رشتہ کمزور کر دیا جائے تو پیچھے کیا رہ جائے گا؟

آج بھارت کی انتہا پسند تنظیم آر ایس ایس اپنے محبوب وزیراعظم نریندر مودی کے ذریعے علامہ اقبال کو بھارت کی یونیورسٹیوں کے نصاب سے نکال سکتی ہے لیکن کابل یونیورسٹی کی علامہ اقبال فیکلٹی آف آرٹس اور ڈھاکہ یونیورسٹی کے ڈپارٹمنٹ آف اسلامک اسٹڈیز اور شعبہ فارسی کے نصاب سے علامہ اقبال کو کیسے نکالے گی؟
دوسری طرف ٹرمپ کے حامیوں کو یہ تکلیف ہے کہ اقبال نے تہران کو مشرق کا جنیوا کیوں کہا اور ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے اپنی کتاب میں اقبال کو مشرق کا بلند ستارہ کیوں کہا؟ علامہ اقبال مسلم ممالک میں اتحاد اور فرقہ واریت کے خاتمے کے علمبردار تھے لیکن آج بھی کئی مسلم ممالک کی حکمران اشرافیہ فکر اقبال سے خوفزدہ ہے کیونکہ اقبال ایک طرف مغرب کے سرمایہ دارانہ نظام اور جاگیرداری کے مخالف تھے تو دوسری طرف ملوکیت اور بادشاہت کو بھی غیر اسلامی سمجھتے تھے۔
اقبال کے سب دشمن کل بھی آسمان پر تھوک رہے تھے آج بھی آسمان پر تھوک رہے ہیں۔ دشمنانِ اقبال فنا ہو جائیں گے لیکن فکرِ اقبال ہمیشہ زندہ رہے گی۔

WhatsApp
Get Alert