پاکستان میں ٹک ٹاک پر فوری پابندی؟ وائرل نوٹیفکیشن سے متعلق پی ٹی اے نے وضاحت جاری کردی
مختلف پلیٹ فارمز پر پی ٹی اے کے نام اور سرکاری لوگو کے ساتھ ایک دستاویز گردش کر رہی تھی، جس میں ملک بھر میں ٹک ٹاک پر فوری طور پر پابندی عائد کرنے کا دعویٰ کیا گیا تھا

اسلام آباد(قدرت روزنامہ)پاکستان میں مقبول ترین ویڈیو شیئرنگ ایپلی کیشن ٹک ٹاک پر فوری طور پر پابندی عائد کرنے سے متعلق وائرل ایک نوٹیفیکیشن کی پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے سختی سے تردید کردی اور واضح کیا ہے کہ یہ نوٹیفیکیشن سراسر جعلی، بے بنیاد اور گمراہ کن ہے۔
تفصیلات کے مطابق سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر پی ٹی اے کے نام اور سرکاری لوگو کے ساتھ ایک دستاویز گردش کر رہی تھی، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے ملک بھر میں ٹک ٹاک پر فوری طور پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے، اس جعلی نوٹیفیکیشن پر 4 نومبر 2026ء کی تاریخ درج کی گئی تھی، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ پلیٹ فارم پر موجود مواد کا جائزہ لینے اور اس سے پیدا ہونے والے ممکنہ خطرات کے پیش نظر یہ قدم اٹھایا گیا ہے۔
Islamabad (5th November, 2026): The Pakistan Telecommunication Authority (PTA) has noted that a fake notification is circulating on social media regarding an alleged ban on TikTok in Pakistan.
PTA clarifies that no such notification has been issued, and the circulating information is false and misleading.
The public is advised not to share or rely on unverified information circulating on social media. Citizens should obtain authentic information only through PTA’s official website and verified social media platforms.
#PTA #TikTok #FakeNewsAlert #FactCheck #FakeNotification #PublicAwareness #VerifyBeforeYouShare #StopMisinformation #DigitalSafety #Pakistan #PTAUpdates #StayInformed #ThinkBeforeYouShare #OfficialClarification #SocialMediaSafety
— PTA (@PTAofficialpk) November 5, 2026
ان تمام افواہوں اور دعوؤں کا نوٹس لیتے ہوئے پی ٹی اے نے اپنی باضابطہ وضاحت جاری کی ہے، جس میں پی ٹی اے نے واضح کیا کہ اتھارٹی کی جانب سے ٹک ٹاک پر پابندی عائد کرنے کا نہ تو کوئی فیصلہ کیا گیا ہے اور نہ ہی اس نوعیت کا کوئی سرکاری نوٹیفیکیشن جاری کیا گیا ہے، اس جمن میں سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی یہ دستاویز جعلی ہے اور اس میں درج تمام باتیں حقائق کے بالکل منافی ہیں۔
پی ٹی اے نے ملک بھر کے تمام شہریوں اور سوشل میڈیا صارفین پر زور دیا ہے کہ وہ ایسی غیر مصدقہ خبروں، افواہوں اور جعلی نوٹیفیکیشنز پر بغیر تصدیق کے ہرگز یقین نہ کریں اور نہ ہی انہیں مزید آگے شیئر کریں، حکومت یا پی ٹی اے کے کسی بھی فیصلے سے متعلق درست اور مستند معلومات حاصل کرنے کے لیے صرف پی ٹی اے کی آفیشل ویب سائٹ اور اس کے تصدیق شدہ سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر ہی انحصار کیا جانا چاہیئے۔
