ایس ایم ایز کو بڑا ریلیف، وزیراعظم کی قرضوں کے لیے 80 فیصد برآمدات کی شرط ختم کرنے کی ہدایت

اسلام آباد(قدرت روزنامہ)وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایس ایم ایز) اور برآمد کنندگان کے لیے رعایتی فنانسنگ اسکیم پر عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کسی بھی بینک کو اس اسکیم پر عملدرآمد سے انحراف کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے ایس ایم ایز کے لیے طویل مدتی فنانسنگ کی سہولت حاصل کرنے کی خاطر 80 فیصد برآمدات کی شرط ختم کرنے کی بھی ہدایت کی ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت برآمدات سے وابستہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کو سہولیات فراہم کرنے کے حوالے سے اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس میں ایس ایم ایز کو درپیش مسائل، مالی معاونت اور برآمدات میں اضافے کے لیے مختلف اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ایس ایم ایز کی ترقی کے لیے حکومتی سرپرستی اور ضروری سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ حکومت ان اداروں کی استعداد کار بڑھانے، پیشہ ورانہ مہارتوں میں بہتری اور کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کے لیے ہر ممکن معاونت فراہم کرے گی۔

وزیراعظم نے برآمد کنندگان کی سہولت کے لیے ایکریڈیٹیشن کے معیار، لیبارٹریوں کی توسیع اور دیگر ضابطہ جاتی طریقہ کار کو بہتر بنانے کی ہدایت کی۔

انہوں نے برآمد کنندگان کو ان کی دہلیز پر سہولیات فراہم کرنے کے لیے جدید لیبارٹریوں کے قیام کی بھی ہدایت کی۔

اجلاس کے دوران وزیراعظم کو ایس ایم ایز کے نمائندوں کے ساتھ ہونے والی حالیہ مشاورتی نشستوں اور ان میں سامنے آنے والے مسائل سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ مشاورتی نشستوں کے دوران ٹیکسوں، ریفنڈز، صوبائی محصولات، ایکریڈیٹیشن، لاجسٹکس، ادائیگیوں اور فنانسنگ سے متعلق مسائل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

حکام نے اجلاس کو بتایا کہ پاکستان میں برآمدات سے وابستہ ایس ایم ایز کی تعداد تقریباً 17 ہزار ہے۔

بریفنگ کے مطابق اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے یکم نومبر کو ایس ایم ای سیکٹر کے لیے قرضوں تک آسان رسائی کا پورٹل متعارف کرائے جانے کے بعد 10 ہزار سے زائد درخواستیں موصول ہو چکی ہیں۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ ایکسپورٹ فنانس اسکیم کے تحت ایس ایم ای سیکٹر اور نئے برآمد کنندگان کے لیے 300 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جبکہ طویل مدتی ترقیاتی فنانسنگ سہولت (LTGFF) کے لیے رواں سال 350 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

حکام نے بریفنگ میں مزید بتایا کہ افریقی ممالک کو پاکستانی برآمدات بڑھانے کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزرا رانا تنویر حسین، احسن اقبال، جام کمال خان، ڈاکٹر مصدق ملک، احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب، عطا اللہ تارڑ، علی پرویز ملک اور اویس احمد خان لغاری نے شرکت کی۔

WhatsApp
Get Alert