ڈس انفارمیشن سب سے بڑا خطرہ بن چکی، مصنوعی ذہانت کا مثبت استعمال یقینی بنانا ہوگا، وزیر اطلاعات

اسلام آباد(قدرت روزنامہ)وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے جعلی اور غیر مصدقہ خبروں اور غلط معلومات کے پھیلاؤ کو موجودہ دور کا سب سے بڑا چیلنج قرار دیتے ہوئے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے مثبت استعمال کو یقینی بنانے پر زور دیا ہے۔

ایس ڈی پی آئی کے زیر اہتمام 296 ویں پائیدار ترقی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے کہا کہ آج کے دور میں سب سے بڑا خطرہ ڈس انفارمیشن یعنی غلط معلومات کا پھیلاؤ ہے، جس کا سامنا ہر انسان کو کرنا پڑ رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کے مثبت استعمال کو یقینی بنانا ہوگا، جبکہ الیکٹرانک میڈیا کے آنے کے بعد ریگولیشن کے لیے مختلف فریم ورک بھی تشکیل دیے گئے۔

وفاقی وزیر نے صحافیوں کی فلاح و بہبود کے حوالے سے کہا کہ کسی ادارے کی جانب سے صحافیوں کی فلاح کے لیے کوئی فنڈ قائم نہیں کیا جا سکا، حتیٰ کہ دورانِ ڈیوٹی کسی صحافی کی وفات کی صورت میں بھی کوئی پیکیج تیار نہیں کیا گیا۔

عطااللہ تارڑ نے کہا کہ پاکستان براڈکاسٹرز ایسوسی ایشن (پی بی اے) کو اس حوالے سے کوئی مؤثر نظام وضع کرنا ہوگا، اب اس طرح معاملات نہیں چل سکتے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کو بھی اس معاملے میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

پائیدار ترقی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ پائیدار ترقی کا بنیادی مقصد موجودہ اور آنے والی نسلوں کے بہتر مستقبل کو یقینی بنانا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان ترقیاتی اہداف کے حصول کے لیے اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔

WhatsApp
Get Alert