سعودی عرب نے حوثیوں سے امن کی شرائط پوچھیں تو 51 ارب ڈالر کا مطالبہ سامنے آگیا، امریکی اخبار کا بڑا انکشاف

دبئی (قدرت روزنامہ) یمن کے حوثی گروپ نے سعودی عرب کے ساتھ لڑائی ختم کرنے کے لیے 51 ارب امریکی ڈالر معاوضہ اور یمن کے جائز حکمرانوں کے طور پر باضابطہ تسلیم کیے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔ امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی جمعرات کو شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق یہ مطالبات اس وقت سامنے آئے جب سعودی عرب نے بحیرۂ احمر میں اپنے تیل بردار جہازوں پر حملوں اور آبنائے باب المندب کے قریب حوثیوں کی پیش قدمی کے بعد مذاکرات کے ذریعے کشیدگی ختم کرنے کے امکانات معلوم کیے۔
وال اسٹریٹ جرنل نے بات چیت سے آگاہ افراد کے حوالے سے بتایا کہ حوثیوں نے کئی برس کی سعودی قیادت میں ہونے والی فضائی کارروائیوں اور یمن پر طویل پابندیوں سے ہونے والے نقصانات کے ازالے کے لیے 51 ارب ڈالر مانگے۔
بعد کی بات چیت میں مختلف رقوم بھی زیر بحث آئیں، تاہم ممکنہ مالی تصفیے کی مالیت اب بھی دسیوں ارب ڈالر ہو سکتی ہے۔ گلف نیوز نے بھی اسی رپورٹ کی بنیاد پر ان مطالبات کی تفصیلات شائع کی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق سعودی حکومت اور حوثی قیادت نے اخبار کی جانب سے تبصرے کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔ اس لیے ان شرائط کو کسی طے شدہ معاہدے یا سعودی عرب کی جانب سے منظور شدہ مطالبات کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔
51 ارب ڈالر کے ساتھ سیاسی تسلیم کیے جانے کی شرط
حوثیوں کا مطالبہ صرف مالی معاوضے تک محدود نہیں۔
وہ چاہتے ہیں کہ ریاض انہیں یمن کے حکمرانوں کے طور پر تسلیم کرے۔ یہ سعودی عرب کے لیے ایک انتہائی حساس سیاسی فیصلہ ہوگا کیونکہ وہ یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت کرتا رہا ہے۔ حوثیوں کو تسلیم کرنے سے یمن میں طاقت کا توازن بدل سکتا ہے اور سعودی عرب کی جنوبی سرحد پر ایران سے قریبی تعلق رکھنے والی تحریک کی سیاسی حیثیت مضبوط ہو سکتی ہے۔
تاحال سعودی عرب کی طرف سے ان مطالبات کو قبول کرنے یا جنگ بندی کے کسی نئے معاہدے کا اعلان نہیں کیا گیا۔
سعودی ہوائی اڈوں اور تیل کی تنصیبات پر حملے
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق حالیہ مہینوں میں حوثیوں کے حملوں کا دائرہ سعودی تیل کی تنصیبات، شہری ہوائی اڈوں اور بحیرۂ احمر کی جہاز رانی تک پھیل گیا ہے۔
اکتوبر میں سعودی اہداف کے خلاف تقریباً روزانہ حملوں کی اطلاعات سامنے آئیں اور مہینے کے آخری حصے میں ان کی شدت بڑھی۔ اس صورتحال نے فضائی سفر، توانائی کے شعبے اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کے حوالے سے تشویش پیدا کی ہے۔
گلف نیوز کی 5 نومبر کی رپورٹ کے مطابق سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے مدینہ منورہ کے علاقے کی طرف داغا گیا حوثیوں کا ایک میزائل تباہ کرنے کا اعلان بھی کیا۔
سعودی حکام نے ینبع کے تیل برآمدی مرکز کے ممکنہ خطرات سے متعلق انتباہات جاری کیے، جبکہ یمن کی سرحد کے قریب شرورہ میں بھی ہنگامی پیغامات بھیجے گئے۔ یہ تفصیلات متعلقہ سعودی حکام کے بیانات کی بنیاد پر رپورٹ کی گئی ہیں۔
حوثیوں کی عدن کی جانب پیش قدمی، باب المندب کی اہمیت
اخبار کے مطابق حوثی فورسز نے یمن کے مزید اہم علاقوں میں پیش قدمی کی ہے اور وہ بندرگاہی شہر عدن سے تقریباً 80 کلومیٹر کے فاصلے تک پہنچ گئی ہیں۔
عدن یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کا اہم مرکز ہے۔ اس کے قریب حوثیوں کی موجودگی سعودی حمایت یافتہ حکومت پر دباؤ بڑھاتی ہے۔
آبنائے باب المندب بحیرۂ احمر کو خلیج عدن سے ملاتی ہے اور عالمی تجارت و توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمندری راستہ ہے۔ اس کے اطراف میں حملے یا جہاز رانی کو لاحق خطرات نہ صرف سعودی عرب بلکہ بین الاقوامی سپلائی چین کو بھی متاثر کر سکتے ہیں۔
سعودی عرب کے لیے مذاکرات یا فوجی کارروائی، دونوں راستے مشکل
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق سعودی ولی عہد محمد بن سلمان حوثیوں کے ساتھ ایسی بات چیت سے گریز کرنا چاہتے ہیں جس میں سعودی عرب کے پاس میدانِ جنگ سے حاصل ہونے والی مؤثر سودے بازی کی پوزیشن نہ ہو۔ دوسری طرف یمن میں مزید سعودی زمینی فوج بھیجنے سے جانی نقصان اور اندرونِ ملک سیاسی ردعمل کا خطرہ ہے۔
صنعا سینٹر فار اسٹریٹجک اسٹڈیز کے شریک بانی ماجد المذحجی نے اخبار کو بتایا کہ مالی رقم سے بھی بڑا مسئلہ یہ نظیر قائم ہونا ہے کہ کوئی گروپ فوجی دباؤ بڑھا کر مستقبل میں مزید رعایتیں یا رقم حاصل کر سکے۔ رائس یونیورسٹی کے ماہر کرسٹیان کوٹس الریخسن کے مطابق شہری اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں نے سعودی عرب کے لیے خطرات کو پہلے کے مقابلے میں زیادہ پیچیدہ بنا دیا ہے۔
پاکستان نے یمن کے اندر جارحانہ کارروائیوں سے گریز کیا، رپورٹ
رپورٹ میں سعودی عرب کے ممکنہ علاقائی اور بین الاقوامی فوجی شراکت داروں کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ اخبار کے مطابق سعودی عرب نے پاکستان اور ترکی کے ساتھ دفاعی تعاون سے مدد حاصل کرنے کی کوشش کی، تاہم ترکی کی پارلیمان نے متعلقہ دفاعی معاہدے کی ابھی توثیق نہیں کی، جبکہ پاکستان نے یمن کے اندر حوثیوں کے خلاف جارحانہ حملوں میں شامل ہونے سے گریز کیا ہے۔
یہ وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کردہ صورتحال ہے، پاکستان کی طرف سے کسی نئے باضابطہ اعلان کا متن نہیں۔ اس لیے اسے پاکستان اور سعودی عرب کے مجموعی دفاعی تعلقات کے خاتمے یا ہر قسم کے دفاعی تعاون سے انکار کے معنی میں نہیں لیا جانا چاہیے۔
اخبار کے مطابق مصر کی پارلیمان نے سعودی عرب کی فوجی معاونت کی منظوری دی، لیکن مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے واضح کیا کہ ممکنہ کردار دفاعی ہوگا۔
امریکا نے بھی حوثیوں کے خلاف سعودی عرب کی نئی فوجی مہم میں براہِ راست شرکت کی پیشکش نہیں کی۔
ایران سے کشیدگی بڑھنے کی صورت میں نئے خطرات
حوثیوں کے ایران کے ساتھ تعلقات اس بحران کو مزید علاقائی اہمیت دیتے ہیں۔ سکیورٹی ماہرین کے مطابق اگر امریکا یا اسرائیل اور ایران کے درمیان مزید بڑی فوجی کارروائی ہوئی تو حوثیوں کے حملوں میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔
اس سے سعودی عرب کے ہوائی اڈوں، تیل کی تنصیبات اور بحیرۂ احمر کی تجارت کو نئے خطرات لاحق ہوں گے۔
فی الحال بنیادی حقیقت یہ ہے کہ سعودی عرب کے سامنے ایک مشکل انتخاب موجود ہے: بھاری مالی اور سیاسی شرائط کے ساتھ مذاکرات، یا ایسی فوجی کشیدگی کا خطرہ جس کے اخراجات اور نتائج غیر یقینی ہیں۔ 51 ارب ڈالر کی رقم مذاکرات سے آگاہ ذرائع کے حوالے سے سامنے آئی ہے؛ کسی حتمی معاہدے، ادائیگی یا سعودی منظوری کی تصدیق نہیں ہوئی۔
