قومی ہیرو علی سدپارہ کی لاش کے ٹو پر ہی محفوظ کر لی گئی

لاہور (قدرت روزنامہ) قومی ہیرو علی سدپارہ کی لاش کے ٹو پر ہی محفوظ کر لی گئی۔تفصیلات کے مطابق دنیا کی بلند ترین چوٹی کو موسم سرما میں سر کرنے کی مہم کے دوران جاں بحق ہونے والے علی سدپارہ کی لاش پہاڑوں میں ہی محفوظ کر دی گئی۔ان کے صاحبزادے ساجد علی سدپارہ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے پہاڑوں میں پاکستان کا جھنڈا لگے ایک تصویر شئیر کی۔
انہوں نے لکھا کہ ’ ہمارے ہیرو کی لاش کے ٹو پر سی فور کے مقام پر محفوظ کر دی ہے۔ارجنٹینا سے تعلق رکھنے والے ایک کوہ پیما نے لاش کو بوٹل نیک سے کیمپ فور لانے میں بہت مدد کی۔انہوں نے مزید کہا کہ میں نے اس موقع پر پوری قوم کی جانب سے فاتحہ خوانی اور قرآن کی تلاوت کی اور میت کو پاکستانی جھنڈے کی نشانی کے ساتھ محفوظ کر دیا ہے۔

ساجد سدپارہ نے اپنے ٹویٹ میں لکھا کہ ’’ میں کے ٹو پر بوٹل نیک سے 300 میٹر نیچے خطرناک ڈھلوان سے تن تنہا علی سدپارہ کا جسد خاکی نکالنے کے بعد ایک ارجنٹائنی کوہ پیما کی مدد سے اسے کیمپ 4 واپس لے آیا ہوں،میں نے پوری قوم کی جانب سے سورہ فاتحہ اور قرآن مجید پڑھا ہے اور قومی پرچم لگا کر جسد خاکی ملنے کی جگہ کو محفوظ کرلیا ہے تاکہ آئندہ اس مقام کو باقاعدہ شناخت مل سکے۔

‘۔

یاد رہے کہ فروری میں کے ٹو پر لاپتہ ہو جانے والے پاکستانی کوہ پیما علی سدپارہ کی لاش 2 دن قبل کے ٹو کے ’بوٹل نیک‘ سے 300 میٹر نیچے جبکہ ان کے دو اور ساتھیوں میں سے ایک کی لاش ’بوٹل نیک‘ سے 400 میٹر نیچے ملی تھی اور یہ مقام ڈیتھ زون میں 8200-8400 میٹر کی بلندی پر واقع ہے۔کے ٹو
کے ٹو
وزیر اطلاعات گلگت بلتستان کی جانب سے بھی تصدیق کی گئی کہ علی سدپارہ اور ان کے ساتھیوں کے جسد خاکی مل چکے ہیں ۔
اس سے قبل پیر کی صبح سے سوشل میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ مرحوم کوہ پیما محمد علی سدپارہ کا جسد خاکی تلاش کر لیا گیا ہے۔ محمد علی سدپارہ مرحوم کی میت کے ٹو بوٹل نیک سے 300 میٹر کے فاصلے پر ملی۔

WhatsApp
Get Alert