ٹریڈنگ کے ابتدائی لمحات میں پاکستان اسٹاک مارکیٹ کریش کرگئی


اسلام آباد (قدرت روزنامہ)پاکستان اسٹاک ایکسچینج (کے پی ایس) میں آج ٹریڈنگ کا آغاز یوں تو مثبت ہوا تاہم تھوڑی دیر میں ہی بینچ مارک 100 انڈیکس 3 ہزار سے زائد پوائنٹس یعنی 2.84 فیصد کمی ساتھ صبح 10 بجے تک 115,414.09 پر ٹریڈ کررہا تھا۔
مارکیٹ 117,601.62 کی اونچائی پر کھلی لیکن تیزی سے کم ہوکر 115,397.00 کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی، ابتدائی اوقات میں تجارتی حجم 63.14 ملین شیئرز رہا۔
شدید گراوٹ کے باوجود، کے ایس ای 100 انڈیکس نے گزشتہ سال کے مقابلے میں 65.78 فیصد اضافہ کیا ہے، تاہم، سال بہ تاریخ تبدیلی 0.25 کی معتدل سطح پر رہتی ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں گزشتہ سیشن 118,791.66 پر بند ہوا تھا، موجودہ دن کی رینج 115,397.00 اور 117,601.62 کے درمیان ہے، جبکہ 52 ہفتے کی رینج 68,710.50 اور 120,796.67 کے درمیان رہی ہے۔
سیمنٹ، کمرشل بینک، آئل اینڈ گیس ایکسپلوریشن کمپنیاں، او ایم سی، ریفائنری اور پاور جنریشن سمیت تمام اہم سیکٹرزمیں فروخت کا دباؤ دیکھا گیا، حبکو،اے آرایل، ماری، اوجی ڈی سی ، پی پی ایل، پی او ایل، پی ایس او، سوئی ناردن اور سوئی سدرن سمیت انڈیکس ہیوی اسٹاکس سرخ رنگ میں ٹریڈ ہوئے۔
ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے سی ای او محمد سہیل کے مطابق عالمی اسٹاک مارکیٹ کریش ہونے بعد پاکستانی مارکیٹ میں3 ہزار سے زائد پوائنٹس کی کمی ہوئی ہے، پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں شیئرز کی فروخت کا رجحان ایک مضبوط ہفتے کے بعد رونما ہوا ہے، جس نے اقتصادی محاذ پر حوصلہ افزا پیش رفت کی وجہ سے فائدہ اٹھایا تھا۔
بین الاقوامی سطح پر پیر کے روز ایشیا میں اسٹاک کے بڑے انڈیکس گرگئے کیونکہ وائٹ ہاؤس کے حکام نے اپنے حالیہ ٹیرف کے نفاذ سے متعلق منصوبوں سے پیچھے ہٹنے کا کوئی اشارہ نہیں دیا، سرمایہ کار سمجھتے ہیں کہ کساد بازاری کے بڑھتے ہوئے خطرے کے پیش نظر مئی کے اوائل میں امریکی شرح سود میں کمی دیکھی جاسکتی ہے۔
دنیا بھرکی اسٹاک مارکیٹوں میں یہ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں کو بتایا کہ سرمایہ کاروں کو اپنی دوا لینا پڑے گی اوروہ چین کے ساتھ اس وقت تک کوئی معاہدہ نہیں کریں گے جب تک امریکی تجارتی خسارہ دورنہیں کرلیا جاتا، بیجنگ نے اعلان کیا ہے کہ اسٹاک مارکیٹوں نے اپنے انتقامی منصوبہ عیاں کردیا ہے۔

WhatsApp
Get Alert