کیو ڈی اے میں جائیداد منتقلی برانچ کی بادشاہت ۔۔بے قاعدگیاں

جعلی دستاویزات، مشکوک پاور آف اٹارنی، اور مردہ افراد کے نام پر پلاٹوں کی منتقلی کا انکشاف


کوئٹہ(قدرت روزنامہ)کوئٹہ ڈویلپمنٹ اتھارٹی (کیو ڈی اے)کے جائیداد منتقلی برانچ میں بدعنوانی، اختیارات کے ناجائز استعمال اور بے ضابطگیوں کا ایک سنگین اسکینڈل منظر عام پر آیا ہے۔ معتبر ذرائع اور اندرونی دستاویزات کے مطابق، ادارے کے اندر ایک منظم کرپشن نیٹ ورک فعال ہے جو عوامی اراضی کو ذاتی منافع کے لیے غیر قانونی طور پر منتقل کر رہا ہے۔اطلاعات کے مطابق ہر پلاٹ کی ٹرانسفر کے بدلے مبینہ طور پر لاکھوں روپے رشوت لی جا رہی ہے، اور یہ رقم صرف چند افراد نہیں بلکہ پورے نیٹ ورک میں بانٹی جاتی ہے۔ اس نیٹ ورک میں اعلی افسران، جونیئر کلرک، چپراسی، اور دیگر اہلکار شامل بتائے جا رہے ہیں۔ بعض نچلے درجے کے ملازمین، جنہیں کسی بھی طرح ٹرانسفر کے فیصلے کرنے کا اختیار حاصل نہیں، انہیں جعلی طور پر “ڈائریکٹر” ظاہر کر کے اہم فائلوں پر دستخط کروائے جا رہے ہیں۔۔ذرائع کا کہنا ہے کہ متعدد پلاٹوں کی منتقلی جعلی پاور آف اٹارنی کے ذریعے کی گئی، جن کی قانونی حیثیت انتہائی مشکوک ہے۔
سب سے حیرت انگیز انکشاف یہ ہوا کہ بعض کیسز میں پلاٹ ان افراد کے نام منتقل کیے گئے جو کئی سال قبل وفات پا چکے تھے۔ یہ گویا ایسا لگتا ہے جیسے مردے قبروں سے اٹھ کر اپنے پلاٹ کسی اور کو منتقل کر رہے ہوں۔ جائیداد کی منتقلی کے لیے لازمی قانونی شرط یہ ہے کہ نمایاں اخبارات میں اشتہار شائع کر کے ممکنہ دعویداروں کو آگاہ کیا جائے۔ لیکن کیو ڈی اے میں یہ شرط یا تو بالکل نظر انداز کر دی جاتی ہے یا پھر ایسے اخبارات میں اشتہار دیا جاتا ہے جن کا عوامی رسائی سے کوئی تعلق نہیں۔ یوں، نہ صرف اصل مالکان کو لاعلم رکھا جاتا ہے بلکہ جعلی انتقالات کو قانونی لبادہ پہنا دیا جاتا ہے۔ایف بی آر میں کو ٹیکس کی مد معمولی میں علامتی رقم جمع کروا کر باقی رقم مبینہ طور پر اہلکار آپس میں تقسیم کر لیتے ہیں۔ اس عمل سے قومی خزانے کو سالانہ کروڑوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے، جبکہ شفافیت اور دیانت کے دعوے کھوکھلے ثابت ہو رہے ہیں۔عوامی حلقوں میں اس تمام صورتِ حال پر شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ان کی زمینوں اور پلاٹوں پر قبضہ کر کے، جعلی انتقالات کے ذریعے انہیں محروم کیا جا رہا ہے۔ متاثرین اور شہری تنظیموں نے حکومتِ بلوچستان اور نیب سے فوری نوٹس لینے، ایک اعلی سطحی انکوائری کمیٹی کے قیام، اور ملوث افسران و اہلکاروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

WhatsApp
Get Alert