بلوچستان اسمبلی اجلاس میں متعدد قراردادیں منظور کر لی گئی

پیدائش کے لیٹ اندراج کی مدت 30 سال کردی گئی ۔ ژوب شاہراہ پر ٹھیکہ دینے اور رخشاں کو دو حلقوں میں تقسیم کرنے کی قراردادیں منظور

ڈاکٹر مہر اللہ ترین کو شہید قرار دینے اور ان کے نام پر کینسر اسپتال منسوب کرنے کی قرارداد منظور
بسوال ڈیم، پنجگور ترقیاتی اسکیموں، مائنز بل اور بلوچستان ہاوس اسلام آباد پر ارکان اسمبلی شدید تحفظات کا شکار
بلوچستان ہاوس اسلام آباد میں کرایوں کا بوجھ ناقابل برداشت، اسپیکر نے رپورٹ طلب کرلی
صوبائی خودمختاری صرف پنجاب کے لیے ہے،مولوی نور اللہ
بسوال ڈیم پروجیکٹ پر سالہا سال سے رقم مختص کی جا رہی ہے، لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہو رہا،مولانا ہدایت الرحمان بلوچ
سوالات کے وقت وزرا ایوان میں موجود نہیں ہوتے تو سوالات کا سسٹم ہی ختم کر دیں،یونس عزیز زہری
پانی فروشی پر مافیا قابض ہیں باز نہ آئے ان پر ٹیکس لگائیں گے،عبدالرحمان کھیتران


کوئٹہ(قدرت روزنامہ)بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں ایوان نے پیدائش کے لیٹ اندراج کے لیے 20سال کے بجائے 30سال کرنے اور سول جج کے بجائے اختیارات چیئرمین ایڈمنسٹریٹر مقامی کو تفویض کرنے کی قرار داد منظور کی ایوان نے ژوب قومی شاہراہ کا ٹھیکہ دینے کے اقداماٹ اٹھانے کے قرار داد بھی منظور کرلی بلوچستان اسمبلی اجلاس میں رخشاں ڈیویژن کو دو حلقوں میں تقسیم کرنے کی قرار داد منظور کرلی ایوان نے ڈاکٹر مہر اللہ خان ترین کے صوبے کے لیے گراں قدر خدمات پر حکومت بلوچستان سے سفارش کی کہ ڈاکٹر مہر اللہ خان ترین کو شہید قرار دیکر ان کے نام سے کینسر ہسپتال کے منسوب کیا جانے کے قرار داد کو ایوان نے قرار داد کو منظور کرلیا۔
اپوزیشن کی جانب سے مائنز اینڈ منرلز بل سے وفاق کے اختیارات دوبارہ شامل کرنے کے خلاف ایوان سے واک آوٹ کیا تاہم حکومتی کمیٹی نے اپوزیشن کا احتجاج ختم کرکے دوبارہ اسمبلی اجلا س میں لے آئے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے ایوان کو رول کے مطابق چلانے کی ہدایت کردی ایوان میں سیکیورٹی فورسز کے شہدا کے لیے فاتحہ خوانی بھی کی گئی بلوچستان اسمبلی کا اجلاس جمعہ کو سپیکر کیپٹن(ر) عبدالخالق اچکزئی کے زیر صدارت ایک گھنٹے کی تاخیر سے شروع ہوا اسمبلی اجلاس میں رکن صوبائی اسمبلی فضل قادر کی جانب سے ژوب سے پنجاب جانے والی شاہراہ کے ٹینڈر پر عمل در آمد نہ کرنے کی قرار داد پیش کی جس میں بلوچستان سے خیبر پختونخوا اور پنجاب جانے والی بھاری گاڑیوں کے گزرنے کے بجائے سے ژوب شہر میں ہمہ وقت شدید ٹریفک جام رہتا ہے فضل قادر نے مزید کہا کہ ٹریفک جام کی وجہ سے روزمرہ کی زندگی بلخصوصی مریضوں کو یمرجنسی حالات میں ہسپتال پہنچنے مشکل پیش آرہی ہے انہوں نے کہا کہ عوام کو درپیش مشکلات کے سدباب کے خاطر نیشنل ہائی وے اتھارٹی کی جانب سے اس منصوبے کی مالی بولی 25اپریل کو کھولی گئی تقریبا ایک سال کا عرصہ گزر جانے کے باوجود این ایچ اے نے نہ تو اس منصوبے کا ٹھیکہ دیا اور نہ ہی اس منصوبے پر عملدرآمد کا آغاز کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت وفاقی حکومت سے رابطہ کرکے این ایچ اے سے ژوب کے عوام کے مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے منصوبہ پر فی الفور عملی اقدامات اٹھائے ایوان نے ژوب قومی شاہراہ کے ٹھیکہ دینے کے اقدامات کی اٹھانے کی قرار داد منظور کرلی اسی طرح بلوچستان اسمبلی اجلاس میں رکن صوبائی اسمبلی فضل قادر مندوخیل نے ایوان میں محکمہ بلدیات اور دیہی ترقی میں پیدائش کے لیٹ اندراج کے لیے 20سال کے بجائے 30سال کرنے اور سول جج کے بجائے اختیارات چیئرمین ایڈمنسٹریٹر مقامی کونسل کو تفویض کرنے کی قرار داد پیش کی ایوان نے پیدائش کی لیٹ اندراج کے لیے 20سال کے بجائے 30سال کرنے اور سول جج کے بجائے اختیارات چیئرمین ایڈمنسٹریٹر کو تفویض کرنے کی قرار داد منظور کرلی رکن صوبائی اسمبلی میر زابد ریکی نے جمعہ کو ایوان میں قرارد پیش کی جس میںا نہوں نے رخشاں ڈیویژن کو قومی اسمبلی کے دو حلقوں کو تقسیم کرنے کی استدعا کی انہوں نے کہا کہ این اے 250رخشاں ڈویژن سب سے بڑا قومی اسمبلی کا حلقہ ہے پسماندہ عوام غربت اور پسماندگی کو مد نظر رکھتے ہوئے رخشاں ڈیویژن کو دو حصوں میں تقسیم کیا جائے ۔
ایوان نے رخشاں ڈیویژن کو قومی اسمبلی کے دوحصوں میں تقسیم کرنے کی قرار داد منظور کی جمعہ کو بلوچستان اسمبلی اجلاس میں جمعیت علما اسلام کے رکن صوبائی اسمبلی اصغر ترین نے قرار داد پیش کی جس میںا نہوں نے کہا کہ 27مارچ کو ڈبل روڈ دھماکے میں جاں بحق ہونے والے ڈاکٹر مہر اللہ ترین کو شہید قرار دینے اور کینسر ہسپتال کو ان کے نام سے منسوب کیا جائے ایوان نے قرار داد کو منظور کرتے ہوئے ڈاکٹر مہر اللہ ترین کو شہید قرار دیتے ہوئے کینسر ہسپتال کو ان کے نام سے منسوب کردیا بلوچستان اسمبلی اجلاس میں جماعت اسلامی کے صوبائی و رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمان بلوچ نے توجہ دلاو نوٹس پیش کی جس میں انہوں نے موقف اختیار کیا کہ بسوال ڈیم پروجیکٹ (اورماڑہ) پر کام کئی سالوں سے جاری ہے ہر سال میں مذکورہ بجٹ کے لیے خطیر رقم مختص کی جاتی ہے اس کے باوجود بسوال ڈیم پروجیکٹ(اورماڑہ) تاحال مکمل نہیں ہوا بسوال ڈیم پروجیکٹ پر اب تک کل کتنے اخراجات آئے ہیں اور یہ پروجیکٹ کب تک مکمل ہوگا اسپیکر کی جانب سے حکومتی یقین دہانی کے بعد مولانا ہدایت الرحمان کے توجہ دلاو نوٹس کو نمٹادیا گیا بلوچستان اسمبلی اجلاس میں جمعہ کو بی این پی عوامی کے سربراہ رکن صوبائی اسمبلی میر اسد اللہ بلوچ نے توجہ دلاو نوٹس پیش کیا جس میں انہوں نے موقف اختیار کیا کہ 2024-25کے پی ایس ڈی پی میں تمام اضلاع کے لیے ترقیاتی اسکیمات بذریعہ متعلقہ محکمہ جات تجویز کیے جائے۔
انہوں نے کہا کہ تمام اضلاع کے لیے تجویز کردہ ترقیاتی اسکیموں کو حکومت کی جانب سے پی ایس ڈی پی 2024-25میں شامل کیے گئے لیکن پی بی 29پنجگور کے لیے میری تجویز کردہ کسی بھی ترقیاتی اسکیم کو پی ایس ڈی پی میں شامل نہیں کی گئی اس لیے پی بی 29پنجگور کے عوام شدید مایویسی پائی جارہی ہے انہوں نے اپیل کی کہ پی بی 29پنجگور کے لیے محکمانہ تجویز کردہ اسکیموں کو پی ایس ڈی پی 2025-25میں شامل کرنے کی وجوہات تفصیل سے فراہم کے جائے اسپیکر نے متعلقہ محکمہ کی جانب سے وضاحت کے بعد توجہ دلاو نوٹس نمٹا دی بلوچستان سمبلی اجلاس نقطہ اعتراض پر رکن صوبائی اسمبلی میر زابد ریکی نے کہا کہ مائنز اینڈ منرل بل 28فروری کو پیش ہو ااس بل پر وزیر اعلیٰ ہاوس میں بحث ہوئی یہ بل پر قائمہ کمیٹی میں بھی بحث ہوئی قائمہ کمیٹی نے بل پر مشاورت کے لیے مائنز اونرز کو بلا لیا انہوں نے کہا کہ ہم نے بل میں سے وفاق کے اختیارات ختم کرلیے 12مارچ کو 120صفحات پر مشتمل بل منظور ہوا جو ہم نے بل قائمہ کمیٹی میں فائنل کیا تھا وہ ڈرافٹ میں نہیں تھا قائمہ کمیٹی میں فائنل ہونے والے بل کو تبدیل کیا گیا ہم نے بل میں وفاق کے جو اختیارات ختم کیے تھے وہ دوبارہ شامل کیے گئے تھے جس پر اپوزیشن نے حکومتی روئیے کے خلاف ایوان سے واک آوٹ کیا۔
وزیرا علیٰ بلوچستان نے اپوزیشن کو منانے کے لیے کمیٹی تشکیل دی اور کہا کہ ایوان کو رول کے مطابق چلایا جائے ایوان نے اسد بلوچ ایوان میں اسد بلوچ کی تقریر کو حذف کردیا اجلاس میںنقطہ اعتراض پر اظہار خیال کرتے ہوئے قائد حزب اختلاف میر یونس زہری نے کہا کہ سوالات کے جوابات کے موقع پر وزرا نہیں آتے تو سوالات کا سسٹم ختم کیا جائے ہم بار بار کہتے ہیں کہ وزرا کو آنا چاہیے اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ جہاں متعلقہ وزرا نہیں آتے وہاں سوال کرنے والے بھی نہیں آتے انہوں نے کہا کہ محرک اور وزرا اپنے حاضر ی کو یقینی بنائے رکن صوبائی اسمبلی مولوی نور اللہ نے اسمبلی اجلاس میں کہا کہ صوبائی خود مختیاری صرف پنجاب کے لیے ہے باقی صوبوں کے لیے نہیں ہے وفاق کی جانب سے بلوچستان کو نظر انداز کرنے کا سلسلہ جاری ہے بلوچستان کے حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے انہوں نے کہا کہ اگر ہماری با ت نہ سنی گئی تو ہم ایوان کے ساتھ ساتھ سڑکوں پر بھی احتجاج کریں گے عوامی نیشنل پارٹی کے رکن صوبائی اسمبلی زمرک خان اچکزئی نے کہا کہ بلوچستان ہاوس اسلام آباد میں ہر رکن سے 20ہزار روپے وصول کیے جارہے ہیں۔
اربوں روپے وہاں خرچ ہونے کے باوجود سہولیات کی فقدا ن ہے سندھ ہاوس کا کرایہ 15سوروپے سے لے کر 3500روپے تک ہے ایم پی ایز کی تنخواہ بلوچستان ہاوس کے کرایے میں چلی جاتی ہے بلوچستان ہاوس کے معاملات کو حل کرنے کے لیے پارلیمانی کمیٹی بنائی جائے جس پر اسپیکر نے رولنگ دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان ہاوس کے حوالے سے ایس اینڈ جی ڈی سے رپورٹ منگوائی جائے گی اگر رپورٹ تسلی بخش نہیں ہوگی تو اسے قائمہ کمیٹی کے حوالے کیا جائے گا۔
قائد حزب ختلاف یونس عزیز زہری نے کہا کہ بلوچستان ہاوس کے پانچ کمروں کے تزئین و آرائش پر 6کروڑ روپے خرچ ہوئے ہیں جس پر اسپیکر نے کہا کہ بلوچستان ہاوس اسلام آباد پر خاموش نہیں رہا جاسکتا اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے صمد گورگیج نے کہا کہ مغربی بائی پاس پر ایک کرش پلانٹ چلتا ہے جو آلودگی پھیلا رہا ہے اس کا نوٹس لیا جائے میرے حلقے میں واٹر سپلائی کیس سے سابق ایم پی اے جو غیر ملکی کا بھتہ لیتا ہے وال مین اور متعلقہ ایس ڈی او ملکر پانی فروخت کرتے ہیں صوبائی وزیر عبدالرحمان کھیتران نے کہا کہ یہ لوگ مافیاز بنے ہوئے ہیں پرائیوٹ پانی فروخت کرنے والوں پر ٹیکس لگا دیں گے اسپیکر بلوچستان اسمبلی نے بلوچستان اسمبلی کا اجلاس 5 مئی سہ پہر تین بجے تک ملتوی کردیا ۔

WhatsApp
Get Alert