بلوچستان، پولیس بجٹ میں سنگین مالی بے ضابطگیاں

458.8 ملین روپے کی گاڑیوں کی خریداری میں بے ضابطگیاں

ہاوس رینٹ الانس کی غلط ادائیگی پر 8.48 ملین روپے کا نقصان
پولیس ڈپارٹمنٹ کو اسمبلی کی منظوری کے بغیر 1.2 ارب روپے ضمنی بجٹ جاری کیا گیا
پارلیمنٹ کے منظوری کی بغیر فنڈز کی تقسیم آئین پاکستان کی خلاف ورزی


کوئٹہ(قدرت روزنامہ) پبلک اکاونٹس کمیٹی (پی اے سی)بلوچستان کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں مالی سال 2022-23 کے محکمہ پولیس کے بجٹ، ضمنی بجٹ اور آڈٹ پیراز کا جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی نے محکمہ خزانہ کی جانب سے پولیس ڈپارٹمنٹ کو اسمبلی کی منظوری کے بغیر 1.2 بلین روپے ضمنی بجٹ جاری کیا گیا جو کہ ایک سنگین مالی بے ضابطگی ہے ،جو کہ آئینی خلاف ورزی ہے۔ اس کے علاوہ کئی محکموں سے فرائض کے عیوض رقم کی عدم وصولی پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔کمیٹی نے نشاندہی کی کہ محکمہ پولیس کو ایک اضافی گرانٹ جاری کی گئی تھی، تاہم یہ فنڈز استعمال نہ ہو سکے، جس کی بڑی وجہ خالی آسامیوں اور ریٹائرمنٹ کو قرار دیا گیا۔ اگرچہ یہ فنڈز دو مرتبہ واپس کرنے کی رسمی کارروائی کی گئی،
لیکن محکمہ خزانہ نے اس پر کوئی تسلی بخش جواب نہیں دے سکا اور نہ ہی معاملے کو قانونی شکل دی۔ یہ صورتحال محکمہ پولیس اور محکمہ خزانہ دونوں کی انتظامی کمزوری کو ظاہر کرتی ہے۔ PAC اراکین نے واضح کیا کہ پارلیمنٹ کے منظوری کی بغیر فنڈز کی تقسیم آئین پاکستان کے آرٹیکل 84 کی صریح خلاف ورزی ہے، اور اس قسم کی غلط پالیسی فوری طور پر بند کی جائیں۔سیکیورٹی چارجز کی مد میں سال -23 2022 میں 742.9 ملین روپے کی عدم وصولی پبلک اکاونٹس کمیٹی نے انکشاف کیا کہ اربوں روپے سیکیورٹی چارجز کی مختلف سرکاری و نجی اداروں بشمول PTCL، نیشنل بینک اور ریڈیو پاکستان و دوسرے محکموں سے واجب الادا ہیں، حالانکہ ان اداروں کو پولیس اہلکار 1991 سے سیکورٹی فراہم کر رہے ہیں۔ ایک ہزار سے زائد پولیس اہلکار ان خدمات پر تعینات ہیں لیکن ان کے بدلے کوئی مالی وصولی نہیں کی گئی۔ کمیٹی نے حکم دیا کہ تمام واجبات ایک ماہ کے اندر اندر وصول کیے جائیں، بصورت دیگر ان اداروں کو فراہم کی جانے والی سیکیورٹی معطل کر دی جائے گی۔
کمیٹی نے مزید ہدایت کی کہ فرائض کی عیوض 1991 سے تاحال اربوں روپے کی رقم جو کہ کئی محکمے قرضدار ہیں ان کو فوری وصول کیے جائے اور ان وصول شدہ رقم میں سے 5 فیصد متعین پولیس اہلکاروں کو، 10 شہدا کے اہل خانہ کو اور 25 محکمہ پولیس کو دی جائے جو کہ صرف انفرا اسٹریکچر پر خرچ کیے جائیں۔458.8 ملین روپے کی گاڑیوں کی خریداری میں بے ضابطگی۔آڈٹ رپورٹ مالی سال 2021-22 میں 458.8 ملین روپے مالیت کی بے قاعدہ گاڑیوں کی خریداری کی نشاندہی بھی کی گئی۔ گاڑیوں کی خریداری اوپن ٹینڈر کے بغیر کی گئی، جو بلوچستان پبلک پروکیورمنٹ قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ مزید یہ کہ ادائیگیاں دو مختلف فرموں کو کی گئیں ہے ، جس سے خریداری میں سنگین بے ضابطگی ظاہر ہوتی ہے۔ PAC نے واضح کیا کہ ملکیتی سرٹیفکیٹ کا اجرا ایڈیشنل چیف سیکریٹری کا اختیار نہیں، یہ صرف کابینہ ہی جاری کر سکتی ہے۔ گاڑیاں پرو پرائیٹی سرٹیفکیٹ کے اجرا سے قبل خریدی گئیں، جو کہ سراسر قانون کی خلاف ورزی ہے۔8.48 ملین روپے کا نقصان ہاس رینٹ الانس کی غلط ادائیگی سیکمیٹی نے ان افسران کو ہدف بنایا جو سرکاری رہائش گاہوں میں مقیم ہونے کے باوجود ہاس رینٹ الانس حاصل کر رہے تھے۔ ان سے کرایہ کی کٹوتی نہیں کی گئی جس سے 8.481 ملین روپے کا نقصان ہوا۔ پی اے سی نے ہدایت دی کہ تین ماہ کے اندر اندر تمام موجودہ مقیم افسران سے رقم کی وصولی کی جائے،
جبکہ ریٹائرڈ، شہید یا وفات پا نے والے افسران و اہلکارن کو استثنی دیا جائے۔پبلک اکاونٹس کمیٹی کی اضافی ہدایات 5.445 ملین روپے کے غیر ادا شدہ سرکاری ٹیکسز کی ایک ماہ کے اندر وصولی یقینی بنائی جائے محکمہ پولیس کو ہدایت کی گئی کہ آڈٹ پیراز کی منظوری سے قبل کابینہ سے پیشگی اجازت حاصل کی جائے۔زابد علی ریکی نے کہا کہ محکمہ خزانہ اپنی ذمہ داریاں خود سر انجام دے اور دیگر محکموں سے آپریشنل رہنمائی کی توقع نہ رکھے۔چیئرمین پی اے سی نے کہامحکمہ پولیس پہلے ہی محدود وسائل میں کام کر رہا ہے، لیکن یہ قانونی اور مالی خلاف ورزیوں کا جواز نہیں بن سکتا۔ محکمہ خزانہ کو اپنی ذمہ داریاں سنجیدگی سے نبھانا ہوں گی۔پبلک اکانٹس کمیٹی نے واضح کر دیا کہ اس قسم کی مالی بے ضابطگی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی اور آئین و مالی قوانین کی خلاف ورزی پر سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

WhatsApp
Get Alert