صوبے بھر کی جامعات میں 2 جون سے مکمل تالا بندی، کلاسز کا بائیکاٹ اور ٹرانسپورٹ بند کی جائے گی، فپوا


کوئٹہ(قدرت روزنامہ)فپواسا بلوچستان چیپٹر و اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن جامعہ بلوچستان کی کابینہ کا مشترکہ اجلاس زیرصدارت پروفیسر ڈاکٹر کلیم اللہ بڑیچ منعقد ہوا۔ اجلاس میں، نائب صدر ڈاکٹر شبیر احمد شاہوانی، جنرل سیکرٹری فریدخان اچکزئی، جوائنٹ سیکرٹری میڈم زہرا ملغانی، پریس سیکرٹری رحمت اللہ اچکزئی، فنانس سیکرٹری پروفیسر ڈاکٹر صاحبزادہ باز محمد کاکڑ اور ایگزیکٹیو ممبران ارباب رضا کاسی، میڈم فرحانہ عمر مگسی، ڈاکٹر محب اللہ کاکڑ، ڈاکٹر گل محمد اور مسعود مندوخیل، و تربت یونیورسٹی کے ڈاکٹر مشتاق بادینی، بیوٹمز کے پروفیسر آفتاب عالم جبکہ لورالائی یونیورسٹی کے ڈاکٹر سلام مفتون اور تربت یونیورسٹی کے ڈاکٹر مظہر نے ان لائن اجلاس میں شرکت کی۔اجلاس میں صوبائی حکومت کی جانب سے بلوچستان یونیورسٹیز کے پالیسی ساز اداروں سے منظور شدہ الاﺅنسز کی خاتمے کے حوالے سے غیرقانونی نوٹیفکیشن کو مسترد کرتے ہوئے صوبائی حکومت سے پرزور مطالبہ کیا کہ اس غیرقانونی نوٹیفکیشن کو فوری طور پر واپس لیا جائے اور تمام وائس چانسلرز سے اپیل کیا کہ وہ اس غیرقانونی نوٹیفکیشن کو نافذ نا کرکے اساتذہ و ملازمین دوستی کا ثبوت دیں بصورت دیگر 2 جون بروز سوموار سے صوبے بھر کی جامعات میں مکمل تالا بندی ، کلاسز کا بائیکاٹ اور ٹرانسپورٹ بند کی جائے گی جس کی تمام تر ذمہ داری صوبائی حکومت پر عائد ہوگی۔ اجلاس میں بلوچستان گرینڈ الائنس کی پلیٹ فارم سے صوبے بھر کے سرکاری ملازمین خاصکر صوبے بھر کی جامعات کو درپیش سخت مالی بحران کی خاتمے کیلئے جاری احتجاجی تحریک کے سلسلے میں بروز جمعرات و جمعہ کو جامعہ بلوچستان میں کامیاب یوم سیاہ منایا اور بروز سوموار 26 مئی کو کامیاب قلم چھوڑ ہڑتال کی۔ اجلاس میں اس عزم کا اظہار کیا کہ بلوچستان گرینڈ الائنس کے آئندہ اعلان شدہ شیڈول میں بھرپور انداز میں حصہ لیا جائے گا دریں اثنائ اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن کی کابینہ ممبران نے وائس چانسلر جامعہ بلوچستان سے ملاقات کی اور ان سے اپیل کی کہ وہ صوبائی حکومت کی جانب سے الاﺅنسز کے خاتمے کے حوالے سے غیرقانونی نوٹیفکیشن کو جامعہ بلوچستان میں نافذ نا کریں۔ اجلاس میں واضح کیا کہ یونیورسٹی آف بلوچستان کی انتظامیہ کی جانب سے جامعہ کے پالیسی ساز اداروں سے منظور شدہ یوٹیلیٹی الاو¿نس اور 5 فیصد کٹوتی کو غیرقانونی طور پر صوبائی آفسر شاہی کی ایماءپر ختم کیا جو سراسر ایک ملازمین دشمن اقدام ہے جبکہ سول و گورنر سیکرٹریٹ سمیت دیگر تمام سرکاری اداروں کے آفیسران و ملازمین خود یوٹیلیٹی، ایگزیکٹو اور دیگر کئی الاﺅنسز سمیت ہاﺅس ریکوزیشن لے رہے ہیں لیکن جامعہ بلوچستان کے اساتذہ کرام اور ملازمین کو ان منظور شدہ الاﺅنسز سے سے غیر قانونی طور پر محروم رکھا جارہا ہے جو کسی صورت قابل قبول نہیں ہوسکتا۔ اجلاس میں صوبائی حکومت سے پرزور مطالبہ کیا کہ وہ 26-2025 کے سالانہ بجٹ میں صوبے کی یونیورسٹیوں کے بجٹ میں کم ازکم 15 ارب روپے تک کا اضافہ کریں۔

WhatsApp
Get Alert