قیدی دیوار توڑ کر نہیں، گیٹ سے فرار ہوئے: وزیر داخلہ سندھ ضیاء لنجار

کراچی(قدرت روزنامہ)کراچی کی ملیر جیل سے 100 سے زائد قیدیوں کے فرار کے واقعے کے بعد سندھ کے وزیرِ داخلہ ضیاء الحسن لنجار نے جیل کا دورہ کیا اور موقع پر پہنچ کر صورتحال کا جائزہ لیا۔
جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ داخلہ سندھ نے بتایا کہ: “ابتدائی اطلاعات کے برخلاف ملیر جیل کی دیوار نہیں ٹوٹی، قیدی جیل کے گیٹ سے باہر نکلے۔”
ملیر جیل کیسے مافیازکےذریعے چلتی ہے؟؟
ملیر جیل میں ہیڈکانسٹیبل راشدکےاختیارات جیل سپرنٹنڈنٹ سےزیادہ ہیں،ذرائع#ARYNews pic.twitter.com/3H6BJ7gMGX— ARY NEWS (@ARYNEWSOFFICIAL) June 2, 2025
انہوں نے کہا کہ واقعے سے متعلق تفصیلی رپورٹ کا انتظار ہے اور حتمی معلومات آنے تک کوئی حتمی تبصرہ کرنا قبل از وقت ہوگا۔
ضیاء لنجار کے مطابق تقریباً 100 قیدی فرار ہوئے، جن میں سے 46 کو دوبارہ گرفتار کر لیا گیا ہے، جب کہ باقی مفرور قیدیوں کی گرفتاری کے لیے آپریشن جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ: “فرار ہونے والے قیدی سنگین جرائم میں ملوث نہیں تھے۔”
ملیر جیل سے 150 سے زائد قیدی فرار ہوئے، جیل حکام#ARYNEws pic.twitter.com/w5G6CWLiNZ
— ARY NEWS (@ARYNEWSOFFICIAL) June 2, 2025
صوبائی وزیر نے بتایا کہ ملیر جیل میں اس وقت 6 ہزار قیدی موجود ہیں۔ انہوں نے اس بات کا عندیہ دیا کہ واقعے میں انتظامی کوتاہی بھی ہو سکتی ہے، تاہم وجوہات جاننے کے لیے وقت درکار ہے۔
ادھر جیل اور اس کے اطراف میں پولیس اور رینجرز کا مشترکہ سرچ آپریشن جاری ہے۔ متعدد علاقوں میں ناکہ بندی کی گئی ہے جب کہ فرار ہونے والے قیدیوں کی تلاش کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
