پشتون، بلوچ اور دیگر مظلوم قومیتوں کو برابر کا حق دیا جائے، ورنہ پھر عوام خود راستہ نکالیں گے،محمود خان اچکزئی

بلوچ اور پشتون صوبوں کو طاقت، گولی یا جبر سے نہیں بسایا جا سکتاملکی حالات کا تقاضا ہے کہ ہم سب نے مل بیٹھ کر حکومت کو گرانا ہوگا

ملک کے 25 کروڑ عوام سے زر، زور اور ڈنڈے کے ذریعے ووٹ کا حق چھینا گیا ہے
میں وزیر اعلی نہیں بنا 10 سال میں بلوچستان کے غریب کا روٹی کا مسئلہ حل نہ کر سکا تو مجھے گولی مار دی جائے: محمود خان اچکزئی


کوئٹہ(قدرت روزنامہ)تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ حالات کا تقاضا ہے کہ ہم سب نے مل بیٹھ کر حکومت کو گرانا ہوگا اگر حکومت نہیں گئی تو پاکستان بیٹھ جاے گا،یہ خطہ غلط کاریوں کی جانب وجہ سے مست سانڈوں کی کشمکش میں مبتلا ہے یہ حالات ہم سب کی عقل کا امتحان ہے پاکستان جب سے بنا ہے مشکلات میں ہے ہم اربوں ڈالر مقروض ہے، ملک کے حالات خراب ہیںعدلیہ کی چھٹی اور میڈیا پر پابندی لگادی گئی پاکستان میں جو وفاداریاں نہیں بیچتا وہ زیر عتاب ہے جب تک شہبازشریف اور کمپنی برسراقتدار ہے ملک کوخطرات لاحق رہیں گے جو بندہ آئین کو چھیڑتاہے وہ سزائے موت کا حقدارہے ہمیں جمہوریت سے پیار ہے اس پر پر کوئی سودا بازی نہیں کریں گے سب کو پتہ ہے کہ انتخابی نشان چھین لینے کے باوجود بانی پی ٹی آئی الیکشن جیت گئے تھے میں وزیر اعلی نہیںبنا 10 سال میں بلوچستان کے غریب کا روٹی کا مسئلہ حل نہ کر سکا تو مجھے گولی مار دی جائے۔
ان خیالات کا اظہار جمعہ کو کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پر عبدالرئوف لالا،عبدالرحیم زیارتوال، تالیمند خان، آغا سید لیاقت علی،ڈاکٹر حامد خان اچکزئی،علاوالدین کولکوال، عبدالحق ابدال،صلاح الدین اچکزئی، عبدالقہار خان ودان، ڈاکٹر محمد علی، جانان افغان،صابرین خان چغرزئی، سید شراف آغا سمیت پارٹی کے مرکزی ورکنگ کمیٹی کے اراکین، صوبائی کابینہ کے اراکین اور دیگر رہنماں وکارکنوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ ملک کے 25 کروڑ عوام سے زر، زور اور ڈنڈے کے ذریعے ووٹ کا حق چھینا گیا ہے، جو کہ آئین پاکستان کی صریح خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئین کا تحفظ اور دفاع ہمارا قومی فریضہ ہے، اور جمہوریت سے ہماری وابستگی غیر مشروط ہے نے کہا کہ بلوچ اور پشتون صوبوں کو طاقت، گولی یا جبر سے نہیں بسایا جا سکتا۔ یہ علاقے اپنے حقِ حکمرانی کے متقاضی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک ووٹ کو 90 کروڑ میں تولنے والی موجودہ انتخابی صورتِ حال نے جمہوریت کا مذاق بنا دیا ہے۔ پشتون اور بلوچ بارڈرز پر اسلحہ یا ہیروئن اسمگلنگ کرنے والوں کو گولی مارنے کی اجازت ہونی چاہیے، لیکن چھوٹے تاجروں اور کاروباریوں پر پابندیاں ناقابل قبول ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر بلوچستان کو میرے حوالے کیا جائے اور میں 10 سال میں غریب کا روٹی کا مسئلہ حل نہ کر سکا تو مجھے گولی مار دی جائے۔ انہوں نے پشتون اور بلوچ علاقوں میں تعلیمی زبوں حالی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہاں کے اساتذہ ایک سے ڈیڑھ لاکھ روپے تنخواہ لینے کے باوجود بچوں کو پڑھاتے نہیں، جو لوگ پڑھاتے تھے وہ صوبہ چھوڑ کر جا چکے ہیں۔پارلیمنٹ پر کڑی تنقید کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی نے کہا کہ یہ منڈیوں میں بکنے والی پارلیمنٹ ہے، جسے گولی مار دینی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کی بہن کو ان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی، جو بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ پارلیمنٹ کا اسپیکر بے ایمان ہے، اور اس نے یہ کہا کہ پاکستان کے عوام کے ٹیلی فون کالز ریکارڈ کرنا اداروں کا حق ہے، جو آئین کے خلاف ہے۔انہوں نے کہا کہ آئین پاکستان میں خطرناک قیدیوں سے ملاقات پر کوئی پابندی نہیں، لیکن عمران خان پر یہ پابندی بلاجواز ہے۔
محمود خان اچکزئی نے موجودہ وزیرِ اعظم پر الزامات لگاتے ہوئے کہا کہ اس نے عوام کا مینڈیٹ چرایا ہے، اور موجودہ پارلیمنٹ ربڑ اسٹیمپ کے سوا کچھ نہیں۔افغان مہاجرین کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ جو افغان یہاں پیدا ہوئے ہیں یا جنہوں نے یہاں کھربوں روپے کی سرمایہ کاری کی ہے، ان کو شہریت کا حق ملنا چاہیے کیونکہ دنیا بھر میں سٹیزن شپ اسی اصول پر دی جاتی ہے۔آخر میں انہوں نے کہا کہ موجودہ معاشی، سیاسی اور آئینی بحران سے نکلنے کا واحد راستہ ایک حقیقی جمہوری نظام کا قیام اور عوام کو ان کا حقِ رائے دہی واپس دینا ہے انہوں نے کہا ہے کہ پاکستان اس وقت سیاسی، آئینی، معاشی اور داخلی خلفشار کے شدید بحران سے دوچار ہے۔ ملک کی بقا اور سالمیت اس امر سے وابستہ ہے کہ آئین کی مکمل بالادستی، قانون کی حکمرانی، آزاد عدلیہ اور حقیقی عوامی اقتدار کو تسلیم کیا جائے پاکستان کو ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت آئینی جمہوری ڈھانچے سے محروم رکھا گیا۔ جب بھی آئین بنا، اسے توڑا گیا، مسخ کیا گیا اور اس کی روح کے خلاف اقدامات کیے گئے۔ آج بھی ریاستی اداروں نے عوام کے مینڈیٹ کو بری طرح روندا ہے۔ گزشتہ انتخابات میں جو جماعتیں یا امیدوار جیت رہے تھے، ان کا راستہ راتوں رات بدل دیا گیا اور زر و زور کی بنیاد پر من پسند نتائج حاصل کیے گئے۔
حکومت آئین کی کھلی خلاف ورزی، عدلیہ کی کمزوری، میڈیا کی آزادی پر پابندیاں اور بنیادی انسانی حقوق کی پامالی کا ذمہ دار ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے حکمرانوں، افغانستان، ایران اور چین جیسے ہمسایہ ممالک کے حکمرانوں کے لیے بھی امتحان ہے کہ وہ خطے کو عالمی طاقتوں کی پراکسی جنگ کا میدان بننے سے بچائیں۔ورلڈ بینک کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی 25 کروڑ آبادی میں سے 10 سے 12 کروڑ افراد غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ملک پر 70 ہزار ارب روپے سے زائد قرض ہے، جبکہ عوام کو بنیادی سہولیات بھی میسر نہیں۔ انہوں نے تجویز دی کہ ان افراد کی بیرونِ ملک جائیدادیں ضبط کی جائیں جو حکومتی عہدوں پر فائز رہ کر ناجائز اثاثے بناتے رہے ہیں اور ان اثاثوں سے آئی ایم ایف کا قرضہ ادا کیا جائے۔

بلوچستان، خیبر پختونخوا، سندھ اور پنجاب کی زمینیں، وسائل، پہاڑ، ریگستان اور معدنیات وہاں کے عوام کی ملکیت ہیں۔ ان وسائل پر پہلا حق ان علاقوں کے بچوں کا ہے۔ مگر بدقسمتی سے ان وسائل کو لوٹا گیا اور مقامی آبادی کو پسماندگی، غربت اور محرومی کا شکار بنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ سوئی گیس بلوچستان سے نکلی مگر مری، کوہلو، اور ڈیرہ بگٹی کی عورتیں آج بھی تندور پر روٹیاں پکانے پر مجبور ہیں، جبکہ بجلی خیبر سے پیدا ہو کر دوسرے علاقوں میں مہنگے داموں فروخت کی جاتی ہے یہ ملک طاقت کے بل پر نہیں چل سکتا، بلکہ عوام کے اعتماد، شراکت داری اور آئین کے نفاذ سے ہی قائم رہ سکتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تمام جمہوری قوتوں کو متحد ہو کر موجودہ غیر آئینی حکومت کا خاتمہ کرنا ہوگا، ورنہ پاکستان خدانخواستہ مکمل طور پر مفلوج ہو جائے گا۔
انہوں نے میاں نواز شریف سے اپیل کی کہ وہ جمہوریت، آئین اور ملک کی بقا کے لیے واضح مقف اختیار کریں اور اس غیر نمائندہ حکومت سے الگ ہو کر حقیقی جمہوری نظام کی بحالی کے لیے کردار ادا کریں۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ اگر عوام کی رائے کا احترام نہ کیا گیا تو ملک میں انارکی، بیروزگاری، بدامنی اور مزید ٹوٹ پھوٹ کا خطرہ پیدا ہوگا۔پاکستان کو آج ملی اتحاد، بین الاقوامی خطرات کی موثرحکمت عملی، وسائل کی منصفانہ تقسیم، اور آئین کی بالادستی جیسے بنیادی اصولوں کی شدید ضرورت ہے۔
بصورتِ دیگر حالات ایسے موڑ پر جا پہنچیں گے جہاں سے واپسی ممکن نہ ہوگی انہوں نے کہا ہے کہ ہم یہ دعوی نہیں کرتے کہ ہم بڑے بہادر ہیں، لیکن ہمیں جمہوریت سے محبت ہے، ہمیں صرف اور صرف آئینی اور جمہوری پاکستان چاہیے، جہاں جسے عوام ووٹ دیں، اسے ہی حکمرانی کا حق ملے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں دکھ ہوتا ہے کہ جنہوں نے ووٹ کو عزت دو کا نعرہ لگایا، وہی آج خاموش ہیں اور عوامی مینڈیٹ پر سمجھوتہ کر چکے ہیں۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کے دور میں بلاول، بختاور جیسے چھوٹے بچوں کو لے کر وہ دنیا بھر میں جمہوریت کے لیے آواز بلند کرتی رہیں، لیکن آج وہی پارٹی بھی کمپرومائز کا شکار ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج غریبوں کو مجبور کر دیا گیا ہے، ملک میں ایسا ماحول بنا دیا گیا ہے کہ ایماندار آدمی الیکشن لڑ ہی نہیں سکتا۔
محمود خان اچکزئی نے انکشاف کیا کہ ایک امیدوار نے 90 کروڑ روپے خرچ کر کے صرف ایک نشان پر ایک ووٹ حاصل کیا، جبکہ ہمارے غریب کارکن تین مہینے بھی اپنی روٹی کا بندوبست نہیں کر سکتے۔انہوں نے کہا کہ اگر اتنے کروڑ روپے خرچ کیے گئے تو سوال یہ ہے کہ یہ پیسہ کہاں سے آتا ہے؟ کیا کسی کے پاس نوٹ چھاپنے والی مشین ہے؟ ایک عام سرکاری ملازم کی تنخواہ اتنی نہیں جتنی ایک سیاسی امیدوار کے ٹیلیفون کا بل ہوتا ہے۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ ایک خاص قسم کی بوتل 60 ہزار روپے میں خریدی جاتی ہے، اور صرف ایک دو گھنٹوں کی دعوت میں لاکھوں اڑا دیے جاتے ہیں، جبکہ ملک کے عوام روٹی کے لیے ترس رہے ہیں۔ہ پاکستان کے نعرے میں “لا الہ الا اللہ” ہے، لیکن آج دھوکہ، چوری، بددیانتی اور اقربا پروری کا راج ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی دعائیں اور اللہ کی مدد ہی اصل طاقت ہے، جبکہ محلات، گاڑیاں اور عمارتیں سب فانی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک دن یہی عوام ان بلند و بالا عمارتوں کو راکھ کر دیں گے اور اپنی جھونپڑیوں میں اللہ کے بھروسے پر جئیں گے، کیونکہ ان کا ایمان اور یقین مضبوط ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستانی عوام کھڑے ہوں، جمہوریت کا بول بالاکریں، ووٹ کو عزت دیں، اور آئین کی بالادستی کے لیے میدان میں آئیں۔
یہ ملک طاقت کے بل پر نہیں بلکہ عوامی اقتدار اور آئینی اصولوں پر ہی قائم رہ سکتا ہے۔ اگر ایک ریاست اپنے شہریوں کو عزت، روزگار، تحفظ اور روٹی کپڑا مکان جیسی بنیادی ضروریات مہیا نہیں کر سکتی تو ایسی ریاست کے ساتھ سماجی معاہدہ قائم رکھنا ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان، پشتون علاقوں، سندھ اور سرائیکی خطوں کے عوام پر روزگار کے دروازے بند کر دیے گئے ہیں، اور جو غریب اپنی محنت سے روزی کمانا چاہتا ہے، اس پر بھی قدغن لگائی جا رہی ہے۔ ہماری سرحدیں افغانستان، ایران اور ہندوستان سے ملتی ہیں، لیکن چمن، ژوب، قلعہ عبداللہ، دیوبند اور انگورا اڈہ جیسے مقامات پر ہمارے لوگ اپنی ضروریات زندگی کی چیزیں لانا چاہتے ہیں، تو ان پر بھی بندش لگا دی جاتی ہے۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ اگر کوئی ہیروئن، اسلحہ یا غیر قانونی سامان لاتا ہے تو اسے گولی مارو، لیکن جو دو گیلن پٹرول یا اشیائے خور و نوش لاتا ہے اپنے بچوں کے لیے، تو اسے کیوں روکا جاتا ہے؟ہ اربوں روپے کے تجارتی مال کو گوداموں سے مالِ غنیمت کی طرح لوٹا جا رہا ہے، اور غریب عوام کو اپنی دو وقت کی روٹی کے لیے بھی ترسا دیا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر ریاست ہمیں روزگار نہیں دے سکتی تو کم از کم ہمیں ہمارے طور پر جینے دیا جائے۔محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ بارڈر پر کسٹم ہاسز بنائے جائیں تاکہ حلال طریقے سے رزق کمانے والوں کو سہولت ملے اور ریاست کو بھی ٹیکس حاصل ہو۔ انہوں نے کہا کہ پشتون، بلوچ، سندھی، سرائیکی اور تمام قومیتیں اس ملک کا حصہ ہیں اور ان کے ساتھ ظلم اور ناانصافی ناقابل برداشت ہے۔اگر ریاست نے حالات درست نہ کیے تو وہ تمام جمہوری قوتوں کے ساتھ مل کر ملک گیر احتجاجی تحریک شروع کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم تجویز دیتے ہیں کہ ہر جمعے کے دن ملک بھر کی مساجد میں آئین کی بالادستی، عدلیہ اور پریس کی آزادی، اور انسانی حقوق کے لیے آواز بلند کی جائے۔ اگر ایک لاکھ مساجد سے دو کروڑ عوام سڑکوں پر نکلیں، تو اس آواز کو دنیا کی کوئی طاقت نہیں دبا سکتی۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ظلم اور ناانصافی جاری رہی تو ریاست کو تباہی سے کوئی نہیں بچا سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ اور دیگر ریاستی ادارے عوام کے مفاد کے بجائے طاقت کے اشاروں پر چل رہے ہیں۔ پشتون، بلوچ اور دیگر مظلوم قومیتوں کو برابر کا حق دیا جائے، ورنہ پھر عوام خود راستہ نکالیں گے۔محمود خان اچکزئی نے واضح کیا کہ ہم کسی علیحدگی کی بات نہیں کر رہے، بلکہ ہم نے سب سے نرم اور جمہوری تجویز دی ہے۔ اگر ہمیں روکا گیا، تو ہم ملک بھر میں آئینی اور جمہوری جدوجہد کریں گے اور ریاستی ظلم کو بے نقاب کریں گے۔انہوں نے حکومت کو مشورہ دیا کہ عوام کی آواز کو سنیں، ورنہ جس طرح روم جل رہا تھا اور نیرو بانسری بجا رہا تھا، ویسا ہی انجام یہاں بھی ہو گا۔ اگر ریاست نے اپنی اصلاح نہ کی تو خدانخواستہ وہ وقت دور نہیں جب اسلام آباد سے لے کر کراچی تک کوئی دفاع کرنے والا نہ ملے گا۔
بلوچستان میں تعلیمی پسماندگی کی ذمہ دار ریاست ہی نہیں، بلکہ ہم نے بھی اپنی قوم کے ساتھ زیادتی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے پچاس سالوں میں اگر ہم ہر سال صرف 200 بچوں کو اعلی تعلیم دلواتے، تو آج صوبے میں کم از کم 10 ہزار تعلیم یافتہ نوجوان ہوتے، جو معاشرے میں انقلابی تبدیلی لا سکتے تھے۔ہ بلوچستان جیسا وسیع صوبہ، جس میں لسبیلہ کا ساحل ہو، فورس ڈیم ہو، اور دور دراز کے علاقے شامل ہوں، وہاں اگر ہم سالانہ صرف چند سو بچوں کو بھی یونیورسٹیوں تک نہ پہنچا سکے تو ہمیں ڈوب مرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اس سنگین کوتاہی کی ذمہ داری صرف حکمرانوں پر نہیں بلکہ ہم سب پر عائد ہوتی ہے۔ہمارے غریب بلوچ بھائی بہنوں کی حالت زار یہ ہے کہ آج بھی کسی عام بلوچ عورت کے پاس دو جوڑے کپڑے نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں سخت الفاظ استعمال کرنے پر معذرت خواہ ہوں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہمارے بچوں اور خواتین کے ساتھ وہ سلوک کیا جا رہا ہے جو حیوانوں کے ساتھ بھی نہیں ہونا چاہیے۔
ہمیں بطور قوم اپنا محاسبہ کرنا ہوگا، اور غریب طبقے کو عزت، تعلیم اور بنیادی سہولیات فراہم کرنے کی طرف فوری اقدامات کرنے ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر تعلیم اور شعور عام نہ کیا گیا تو یہ پسماندگی ہماری نسلوں کو غلامی اور محرومی کے اندھیروں میں دھکیلتی رہے گی۔انہوں نے ریاست سے مطالبہ کیا کہ وہ بلوچستان کے عوام کو ان کا آئینی، تعلیمی اور معاشی حق دے، اور خود بھی اس پسماندگی پر شرمندگی محسوس کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ آئندہ نسلوں کو بچانے کے لیے ہمیں تعلیم، وقار اور مساوی مواقع فراہم کرنا ہوں گے، ورنہ تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔

WhatsApp
Get Alert