تمام والدین یہ معلومات ضرور جان لیں! نادرا نے بچوں کی رجسٹریشن کی پالیسی تبدیل کردی

اسلام آباد(قدرت روزنامہ)قومی ڈیٹا بیس اور رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے ملک بھر میں خاندانوں اور بچوں کے شناختی ریکارڈ کو محفوظ، قانونی طور پر تسلیم شدہ اور درست بنانے کے لیے بڑی سطح پر نئی پالیسی اصلاحات متعارف کرا دی ہیں۔
قومی ڈیٹا بیس اور رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے ملک بھر میں خاندانوں اور بچوں کے شناختی ریکارڈ کو محفوظ، قانونی طور پر تسلیم شدہ اور درست بنانے کے لیے جامع اصلاحات متعارف کرا دی ہیں۔
ان احکامات کے تحت اب بچوں کے پاسپورٹ کے لیے پرانا بے فارم قابل قبول نہیں ہوگا۔ والدین کو لازمی طور پر بچوں کا رجسٹریشن سرٹیفکیٹ (سی آر سی ) حاصل کرنا ہوگا اور اسی کی بنیاد پر پاسپورٹ جاری کیا جائے گا۔
نادرا حکام کے مطابق بچوں کے لیے نیا رجسٹریشن سرٹیفکیٹ ہر فرد کو ایک مستند، الگ اور تصدیق شدہ شناخت فراہم کرتا ہے جو نہ صرف سرکاری ڈیٹا کو درست بناتا ہے بلکہ جعلی کاغذات کے استعمال کو روکنے میں بھی مددگار ہوگا۔
اسی طرح ایک اور بڑی تبدیلی کے تحت نادرا نے خاندانی رجسٹریشن سرٹیفکیٹ (ایف آر سی ) کو قانونی حیثیت دے دی ہے۔
اب یہ دستاویز صرف ریکارڈ رکھنے کے لیے نہیں بلکہ عدالتوں، وراثت، اور دیگر قانونی معاملات میں بھی باقاعدہ قابل قبول سمجھی جائے گی۔
نیا ایف آر سی پاکستان کے متنوع خاندانی ڈھانچوں کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا گیا ہے، جس میں والدین اور بہن بھائیوں پر مشتمل خاندان، شادی شدہ جوڑے اور ان کے بچے، اور وہ مرد جن کی ایک سے زائد شادیاں ہیں، ان سب کی تفصیلات علیحدہ علیحدہ درج ہوں گی۔
اس اقدام کا مقصد خاص طور پر پیچیدہ خاندانوں میں شناختی ابہام کو ختم کرنا ہے۔نادرا نے اپنی پالیسی میں تین اقسام کے خاندانوں کو باقاعدہ طور پر متعارف کرایا ہے، الف گروپ یعنی پیدائش کی بنیاد پر خاندان، ب گروپ یعنی شادی کے ذریعے بننے والے خاندان اور ج گروپ یعنی گود لیے گئے بچوں پر مشتمل خاندان۔
ہر شہری کو اپنی خاندانی معلومات کی درستی کی ذمہ داری خود ادا کرنا ہوگی اور اگر کسی فرد کا نام فہرست میں شامل نہیں یا کوئی غلطی موجود ہے تو اس کی تصحیح نادرا دفاتر یا موبائل ایپ کے ذریعے ممکن ہوگی۔
نادرا نے مزید وضاحت کی ہے کہ اب تمام درخواست دہندگان کو ایک تحریری یقین دہانی دینا ہوگی جس میں دی گئی معلومات کو درست تسلیم کیا جائے گا۔
نیا خاندانی رجسٹریشن سرٹیفکیٹ صرف نادرا کے سرکاری ریکارڈ کی بنیاد پر جاری کیا جائے گا۔ یہ اصلاحات نہ صرف خاندانی نظام کو شفاف بنانے کے لیے اہم قدم ہیں بلکہ ان سے جعلسازی کی روک تھام اور پاکستانی شہریوں کو قانونی تحفظ فراہم کرنے کی بھی امید کی جا رہی ہے۔
