وزیراعظم شہباز شریف کا بیرون ملک صحافیوں کو آموں کا تحفہ، ’مینگو ڈپلومیسی اِن ایکشن ہے‘


اسلام آباد (قدرت روزنامہ)پاکستان کے آم نہ صرف اپنے ذائقے کی وجہ سے مشہور ہیں بلکہ یہ خارجہ پالیسی میں بطور تحفہ بھی استعمال ہوتا رہا ہے۔ اوراس تحفے کے لیے ’مینگو ڈپلومیسی‘ کی اصطلاح عام ہے۔
حال ہی میں اس اصطلاح کا استعمال سوشل میڈیا پر اس وقت دیکھنے میں آیا جب پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے چند صحافیوں کو آموں کا تحفہ بھیجا اور انہوں نے اس کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر اپلوڈ کر دیں۔
سفینہ خان نے ویڈیو اپلوڈ کرتے ہوئے پاکستان کے وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کا دنیا کے بہترین پاکستانی آم بھیجنے پر تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے لکھا کہ اس میٹھے تحفے کے لیے شکر گزار ہوں۔ پاکستان کے ذائقے کی ایسی نمائندگی کوئی اور چیز نہیں کر سکتی جیسے ہمارے آم کرتے ہیں۔

شمع جونیجو نے لکھا کہ ’مینگو ڈپلومیسی‘ کا ایک خوبصورت انداز۔ انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس میٹھے تحفے کے لیے شکریہ جو ہمارے بھرپور ورثے اور آپس کے رشتوں کی یاد دلاتا ہے۔ اللہ کرے کہ ان آموں کی مٹھاس ہمیں ہم آہنگی، محبت اور مثبت تعلقات کی طرف لے جائے۔

مشعل لکھتی ہیں کہ ’لاہور سے لندن مینگو ڈپلومیسی ایکشن میں ہے‘۔ انہوں ںے کہا وزیراعظم شہباز شریف کا شکریہ ہمارے خاندان کو آم بہت پسند ہیں لیکن شمع جونیجو کو اس بار کمی محسوس ہو گی۔

اظہر جاوید نے لکھا کہ مینگو ڈپلومیسی وزیراعظم شہباز شریفکی جانب سے پاکستان کا خاص تحفہ آم لندن میں موصول ہوا۔ خوشبو نے پاکستان کی یادیں تازہ کردیں۔

ایک ایکس صارف نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ وزیر آعظم شہباز شریف کی جانب سے بیرون ملک لوگوں کو آم بھجوائے جارہے ہیں، وہ سارے پی ٹی آئی کے لوگ جلدی جلدی لائن میں لگ جائیں جو اس جماعت کو گالیاں نکالتے ہیں ان سب کو آم بھجوائے جارہے ہیں۔
فیاض شاہ نے وزیراعظم پاکستان کی جانب سے آموں کا تحفہ بھجوائے جانے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اب یہ اوقات رہ گئی ہے وزیراعظم پاکستان کے عہدے کی۔
ایک ایکس صارف کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم شہباز شریف کو فوری طور کچھ پاکستانی صحافیوں کو بھی آم کا تحفہ دینا ہوگا، ورنہ جان خلاصی نہیں ہوگی۔

WhatsApp
Get Alert