مونس علوی کیخلاف ہراسانی کا کیس کرنیوالی خاتون کون! کیا کے الیکٹرک کے سی ای او سزا کے بعد عہدہ چھوڑنے والے ہیں؟


کراچی(قدرت روزنامہ)کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر مونس علوی نے اپنے خلاف محتسب اعلیٰ سندھ کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے اسے ایک تکلیف دہ مگر قانونی عمل کا حصہ قرار دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ اس فیصلے کا احترام کرتے ہیں تاہم اس کی تفصیلات سے متفق نہیں ہیں۔ ان کے بقول انہوں نے ہمیشہ اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں دیانت داری، شفافیت، اور ایک محفوظ اور باوقار ماحول کے اصولوں کی پاسداری کی ہے، اس لیے یہ فیصلہ نہ صرف ان کے پیشہ ورانہ وقار بلکہ ذاتی حیثیت سے بھی ایک صدمہ ہے۔
مونس علوی نے مزید کہا کہ وہ اپنے قانونی مشیروں کے ساتھ مل کر فیصلے کا بغور جائزہ لے رہے ہیں اور وہ جلد ہی اپیل کا حق استعمال کریں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہر وہ شخص جو خود کو ناانصافی کا شکار سمجھے، اسے اپنی بات کہنے اور سنے جانے کا حق حاصل ہے اور وہ قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے سچ کو سامنے لانے کے لیے پُرعزم ہیں۔

ان کا یہ موقف ایک محتاط مگر اعتماد پر مبنی دفاع کے طور پر سامنے آیا ہے، جس میں وہ نہ صرف اپنے عہدے کا دفاع کر رہے ہیں بلکہ اپنے کردار کو بھی واضح انداز میں پیش کر رہے ہیں۔
واضح رہے کہ صوبائی محتسب اعلیٰ سندھ نے کے الیکٹرک کے سی ای او مونس علوی کے خلاف جنسی ہراسانی کے مقدمے میں فیصلہ سناتے ہوئے انہیں قصوروار ٹھہرایا ہے۔
صوبائی محتسب اعلیٰ جسٹس (ر) شاہ نواز طارق نے کے الیکٹرک کی سابق چیف مارکیٹنگ افسر مہرین زہرہ کی درخواست پر سی ای او کے الیکٹرک کو برطرفی اور جرمانے کی سزا سنائی۔
کے الیکٹرک کی خاتون ملازم مہرین زہرہ کی جانب سے دائر کردہ شکایت کے بعد کی گئی تحقیق کے نتیجے میں مونس علوی کو ان کے عہدے سے ہٹانے کا حکم جاری کیا گیا ہے۔ محتسب نے ان پر 25 لاکھ روپے کا جرمانہ بھی عائد کیا ہے جسے ایک ماہ کے اندر ادا کرنا ہوگا۔
فیصلے کے مطابق اگر وہ جرمانہ ادا نہ کریں تو ان کی منقولہ اور غیر منقولہ جائیداد ضبط کی جا سکتی ہے اور ان کا شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بھی بلاک کیا جا سکتا ہے۔ فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مونس علوی نے شکایت کنندہ کو ہراساں کیا اور اسے ذہنی اذیت پہنچائی۔

WhatsApp
Get Alert