وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت محکمہ صحت کا جائزہ اجلاس


کوئٹہ(قدرت روزنامہ)وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت محکمہ صحت کا جائزہ اجلاس منعقد ہوا جس میں مختلف صحت کے منصوبوں پر بریفنگ دی گئی۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ بلوچستان میں امراض قلب کے جدید انسٹی ٹیوٹ اور ٹراما سینٹر کے منصوبوں پر کام جاری ہے اور صوبے کے 164 بیسک ہیلتھ یونٹس (بی ایچ یوز) کو فعال کردیا گیا ہے۔
بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ نئی عمارتوں کی تعمیر کے بجائے دستیاب سرکاری عمارات کو استعمال میں لایا گیا ہے، جس سے دیہی علاقوں میں علاج معالجے کی سہولتوں میں واضح بہتری آئے گی۔ ان 164 بی ایچ یوز کے ذریعے دیہی علاقوں میں سالانہ 12 لاکھ سے زائد مریضوں کا علاج ممکن ہوگا۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ صوبے میں پہلی بار صحت کے شعبے میں ڈیجیٹل بنیادوں پر اصلاحات لائی جارہی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ تمام بی ایچ یوز کو ڈیجیٹلائزڈ کردیا گیا ہے جس سے نگرانی اور کارکردگی کی موثر جانچ ممکن ہو سکے گی۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ “بنیادی صحت کے مراکز کو فعال اور مؤثر بنا کر ہم عام آدمی کو مقامی سطح پر صحت کی معیاری سہولتیں فراہم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔” انہوں نے کہا کہ “صوبائی حکومت صرف عمارتیں نہیں بلکہ فعال نظام صحت فراہم کر رہی ہے، اور ترقی کا پیمانہ عمارات نہیں بلکہ خدمات کی فراہمی ہے۔”
وزیر اعلیٰ بلوچستان نے یہ بھی کہا کہ “بلوچستان کے ہر فرد کو باعزت، بروقت اور معیاری علاج کی فراہمی ہمارا ہدف ہے، اور دعووں نہیں بلکہ کارکردگی سے صحت کے شعبے میں حقیقی تبدیلی لا رہے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ “صحت کا مضبوط نظام خود انحصاری اور خوشحال بلوچستان کی بنیاد ہے، اور تمام منصوبے مقررہ مدت میں مکمل کرکے عوام کے لیے کھول دیے جائیں گے۔”
اجلاس میں صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ، چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان، ترجمان صوبائی حکومت شاہد رند، ایڈیشنل چیف سیکرٹری ترقیات زاہد سلیم، پرنسپل سیکرٹری بابر خان، سیکرٹری صحت مجیب الرحمٰن پانیزئی، اسپیشل سیکرٹری خزانہ جہانگیر خان اور ایڈیشنل سیکرٹری چیف منسٹر سیکرٹریٹ محمد فریدون نے شرکت کی۔

WhatsApp
Get Alert