وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کا کلی کربلا پشین میں عوامی اجتماع سے خطاب، کربلا کو تحصیل کا درجہ دینے کا اعلان


پشین(قدرت روزنامہ) وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کلی کربلا پشین میں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے تمام علاقوں کی یکساں ترقی ان کی حکومت کا عزم ہے اور عوامی خدمت ان کا نصب العین ہے۔
انہوں نے کہا کہ کسی علاقے کو محرومی کا شکار نہیں رہنے دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے مسائل سنگین ہیں اور وسائل محدود ہیں لیکن قدرتی وسائل کو عالمی سرمایہ کاری اور جدید ٹیکنالوجی سے بروئے کار لایا جائے گا۔

مائنز اینڈ منرلز ایکٹ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اس پر بے بنیاد پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بلوچستان کے وسائل عوام کی مرضی کے بغیر کسی کو نہیں دیے جا سکتے۔ ایکٹ کو دوبارہ اسمبلی میں لا کر اتفاق رائے سے منظور کیا جائے گا۔
وزیر اعلیٰ نے کربلا کو تحصیل کا درجہ دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ کربلا کا ہسپتال اب تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال ہوگا اور اسے انڈس ہسپتال کے انتظام کے تحت چلایا جائے گا۔ انہوں نے علاقے میں بلوچ قبائل کے دیرینہ مطالبے پر 10 کلومیٹر طویل سڑک کی تعمیر، شمسی توانائی کے منصوبوں اور ایک انٹر کالج کے قیام کا بھی اعلان کیا۔

مزید برآں، حرمزئی، کربلا اور سارانان کے لیے 50 کروڑ روپے مالیت کا ترقیاتی پیکج دیا جائے گا، جب کہ کربلا کو قوانین کے مطابق میونسپل کمیٹی کا درجہ بھی دیا جائے گا۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ان کے لیے حکومت اور اپوزیشن کی تفریق معنی نہیں رکھتی، پورا بلوچستان ان کی ترجیح ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بلوچستان کے نوجوانوں کو بینظیر بھٹو اسکالرشپ پروگرام کے تحت دنیا کی 200 جامعات میں تعلیم حاصل کرنے کے مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں۔


انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کا منشور عوامی خدمت ہے اور ہم اسی عزم پر قائم ہیں۔ *“پاکستانیت میں ہی عظمت ہے، یہ ملک ہے تو ہم ہیں، ملک کی خدمت و وفاداری ہی کامیابی ہے،”* وزیر اعلیٰ نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا۔

WhatsApp
Get Alert