غریب بلوچستان کے کروڑوں روپے اسلام آباد میں ضائع، ناکام کلچر کانفرنس پر سوالات اٹھ گئے
غریب صوبے کے کروڑوں ڈوب گئے، ذمہ دار کون؟کروڑوں ڈبونے والوں کا احتساب کون کرے گا؟ اسلام آباد میں بلوچستان فیسٹیول خالی کرسیوں کا منظر پیش کرتا رہا

اسلام آباد(قدرت روزنامہ)بلوچستان کی ثقافت اور سیاحت کو فروغ دینے کے نام پر وفاقی دارالحکومت کے لوک ورثہ میں منعقدہ تین روزہ “بلوچستان گرینڈ ٹورازم فیسٹیول” عوامی اور میڈیا کی عدم دلچسپی کے باعث بری طرح ناکام ہوگیا، جس سے غریب صوبے کے کروڑوں روپے کے اخراجات پر سنگین سوالات اٹھ گئے ہیں.

بلوچستان حکومت کے محکمہ ثقافت اور سیاحت کے زیر اہتمام 10 سے 12 اکتوبر تک جاری رہنے والے اس فیسٹیول کا مقصد صوبے کی ثقافت، سیاحت اور مثبت تشخص کو اجاگر کرنا تھا. افتتاحی تقریب میں وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے شرکت کی، جبکہ اختتامی تقریب کے مہمان خصوصی گورنر شیخ جعفر خان مندوخیل تھے. اس کے باوجود ایونٹ عوامی توجہ حاصل کرنے میں ناکام رہا.

ذرائع کے مطابق، فیسٹیول میں لوگوں کی شرکت نہ ہونے کے برابر تھی اور بیشتر اسٹالز اور پنڈال خالی نظر آئے. مبینہ طور پر ناقص انتظامات اور سہولیات کی عدم دستیابی نے بھی شرکاء اور عوام کو مایوس کیا. سب سے زیادہ تشویشناک پہلو قومی میڈیا کی جانب سے اس ایونٹ کو مکمل طور پر نظر انداز کرنا تھا. جہاں دوسرے صوبوں کے چھوٹے ایونٹس کو بھی براہ راست اور خصوصی کوریج دی جاتی ہے، وہیں ناقص حکمت عملی اور رابطہ کاری کے فقدان کے باعث بلوچستان کا یہ میگا ایونٹ میڈیا کی توجہ حاصل نہ کرسکا.

ناقدین کا کہنا ہے کہ جس صوبے کے عوام بنیادی سہولیات سے محروم ہوں، وہاں دارالحکومت میں کروڑوں روپے خرچ کرکے ایک غیر مؤثر ایونٹ کا انعقاد وسائل کا بدترین ضیاع ہے. ان کا مؤقف ہے کہ یہی رقم اگر صوبے کے اندر سیاحتی مقامات کی بحالی یا مقامی فنکاروں کی فلاح و بہبود پر خرچ کی جاتی تو اس کے بہتر نتائج برآمد ہو سکتے تھے.

اس ناکام ایونٹ کے انعقاد اور غریب صوبے کے عوام کے ٹیکس کا پیسہ ضائع کرنے کے ذمہ داروں کے تعین اور ان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ زور پکڑتا جا رہا ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ اس احتساب کا عمل کون شروع کرے گا.
