اپوزیشن کا افغانستان کی صورتحال پر پارلیمان کا مشترکہ اجلاس بلانے کا مطالبہ، خیبرپختونخوا میں مداخلت پر وفاقی حکومت کو وارننگ

اسلام آباد(قدرت روزنامہ)ملک کی اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد “تحریک تحفظ آئین پاکستان” نے افغانستان کے ساتھ پیدا ہونے والی کشیدہ صورتحال پر پارلیمان کا مشترکہ اجلاس فوری طور پر بلانے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ قوم کو اعتماد میں لیا جا سکے۔ اتحاد نے خیبرپختونخوا میں وزیر اعلیٰ کی تبدیلی کے آئینی عمل میں وفاقی حکومت کی مبینہ مداخلت کی شدید مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر آئینی قدم کی ذمہ دار وفاقی حکومت ہوگی۔

یہ مطالبات اتوار کو اسلام آباد میں تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہی اجلاس کے بعد جاری کردہ اعلامیے میں سامنے آئے۔ اجلاس کی صدارت اتحاد کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے کی، جو مصطفیٰ نواز کھوکھر کی رہائش گاہ پر منعقد ہوا۔

اجلاس کے بعد جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، اپوزیشن الائنس نے پاک-افغان کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے برادر ملک سعودی عرب کے مؤقف کی حمایت کی اور زور دیا کہ دونوں ممالک کے درمیان تمام معاملات بات چیت اور افہام و تفہیم سے حل ہونے چاہییں۔

اعلامیے میں خیبرپختونخوا میں انتقالِ اقتدار کے عمل پر وفاقی وزراء کے بیانات کو صوبائی معاملات میں مداخلت قرار دیتے ہوئے اس کی پرزور مذمت کی گئی۔ اتحاد نے کہا کہ نئے وزیراعلیٰ کا انتخاب پاکستان تحریک انصاف کا آئینی اور جمہوری حق ہے اور وفاقی حکومت کسی بھی غیر آئینی قدم سے باز رہے۔ اپوزیشن نے خبردار کیا کہ کوئی بھی غیر آئینی قدم صوبے کی پہلے سے مخدوش سیکیورٹی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دے گا۔
تحریک تحفظ آئین نے الیکشن کمیشن کی جانب سے وزیر اعلیٰ کے انتخاب کے موقع پر صوبائی اراکین کو آزاد قرار دینے کے فیصلے کی بھی مذمت کی اور اسے ہارس ٹریڈنگ کی معاونت قرار دیا۔

اجلاس میں بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا گیا اور مطالبہ کیا گیا کہ صوبائی حکومتوں اور مقامی عوام کی مشاورت سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مؤثر حکمت عملی وضع کی جائے۔
اجلاس میں پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، تحریک تحفظ آئین کے سیکرٹری جنرل اسد قیصر، مصطفیٰ نواز کھوکھر، سابق گورنر سندھ محمد زبیر، علامہ احمد اقبال رضوی، ساجد ترین، زین شاہ اور دیگر اہم رہنماؤں نے شرکت کی۔
