کوئٹہ میں دیگر اضلاع کے 4 ہزار سے زائد اساتذہ کی تعیناتی کا انکشاف، بلوچستان ہائیکورٹ نے ڈائریکٹر ایجوکیشن سے جامع رپورٹ طلب کرلی

کوئٹہ(قدرت روزنامہ)بلوچستان ہائیکورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس محمد کامران خان ملاخیل اور جسٹس گل حسن ترین پر مشتمل بینچ نے 21 اکتوبر 2025 کو آئینی درخواست نمبر 479 آف 2024 پر سماعت کی۔ درخواست گزار خیر محمد شاہین نے عدالت میں سنگین دعویٰ کیا کہ کوئٹہ ڈسٹرکٹ میں دیگر اضلاع کے 4 ہزار سے زائد اساتذہ تعینات ہیں ، جو کہ ایجوکیشن پالیسی 2025 کے خلاف ہے ، اور استدعا کی کہ انہیں واپس ان کے متعلقہ اضلاع میں ٹرانسفر کیا جائے ۔
اس کے برعکس ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ سرکاری فہرست کے مطابق دیگر اضلاع کے صرف 224 اساتذہ کوئٹہ میں تعینات ہیں ۔ عدالت نے فریقین کے دعوؤں میں بڑے تضاد کے پیش نظر، ڈائریکٹر ایجوکیشن (اسکولز) کو حکم دیا کہ وہ ایک جامع رپورٹ پیش کریں ، جس میں کوئٹہ کے تمام اسکولوں (پرائمری، مڈل و ہائی) کی کل تعداد ، فعال اور غیر فعال اسکولوں کی وجوہات ، (BPS-9 تا 15) اساتذہ کی کل تعداد ، کل منظور شدہ آسامیاں اور خالی آسامیوں کی مکمل وجوہات (بشمول ریٹائرمنٹ، ڈیپوٹیشن، ویڈ لاک پالیسی، جان کو خطرہ، یا چھٹیاں ) شامل ہوں۔
عدالت نے درخواست گزار کو بھی اپنے 4 ہزار اساتذہ کے دعوے کی تفصیلات پیش کرنے کی ہدایت کی اور سماعت 24 نومبر 2025 تک ملتوی کر دی ۔
