بلوچستان کی خونی شاہراہیں: گزشتہ ڈھائی سالوں میں 1500 سے زائد ہلاکتیں، 33 ہزار سے زائد حادثات


کوئٹہ(قدرت روزنامہ)بلوچستان کی شاہراہوں پر ٹریفک حادثات بدستور ایک سنگین بحران کی شکل اختیار کیے ہوئے ہیں، جہاں گزشتہ دو سال اور 2025 کے ابتدائی چھ ماہ کے دوران 1500 سے زائد افراد لقمہ اجل بن گئے جبکہ 35 ہزار سے زائد زخمی ہوئے۔
اعداد و شمار کے مطابق، بلوچستان میں سڑک حادثات کی شرح میں خطرناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جو دہشت گردی کے واقعات سے بھی زیادہ جانیں لے رہا ہے۔ گزشتہ ڈھائی سالوں (2023، 2024، اور 2025 کی پہلی ششماہی) کی مجموعی رپورٹ ایک انتہائی تشویشناک تصویر پیش کرتی ہے۔
سال بہ سال اعداد و شمار:
2025 (پہلے 6 ماہ): رواں سال کے ابتدائی چھ ماہ (جنوری تا جون) کے دوران صوبے بھر میں 12,110 ٹریفک حادثات رپورٹ ہوئے، جن کے نتیجے میں 239 افراد جاں بحق اور 15,690 افراد زخمی ہوئے۔
2024 (مکمل سال): سال 2024 بلوچستان کے لیے ایک تباہ کن سال ثابت ہوا، جس میں 20,300 حادثات ریکارڈ کیے گئے۔ ان حادثات میں 471 سے زائد افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے جبکہ 17,500 سے زائد افراد زخمی یا مستقل معذوری کا شکار ہوئے۔
2023 (مکمل سال): سال 2023 کے دوران 969 بڑے حادثات رپورٹ ہوئے، جن میں ہلاکتوں کی تعداد تشویشناک طور پر 794 رہی اور 2,078 افراد زخمی ہوئے۔
مجموعی صورتحال (جنوری 2023 تا جون 2025):
گزشتہ ڈھائی سالوں کے ان اعداد و شمار کو جمع کیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ:
کل حادثات: تقریباً 33,379
کل ہلاکتیں: تقریباً 1,504
کل زخمی: تقریباً 35,268
میڈیکل ایمرجنسی ریسپانس سینٹر (MERC) 1122 کی ایک رپورٹ کے مطابق، اکتوبر 2019 سے ستمبر 2025 تک (تقریباً پانچ سال) بلوچستان کی شاہراہوں پر 77,826 حادثات میں کل 1,743 افراد جاں بحق اور 103,902 زخمی ہوئے۔
خاص طور پر کوئٹہ-کراچی شاہراہ، جسے “خونی شاہراہ” بھی کہا جاتا ہے، حادثات کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ ماہرین ان حادثات کی بڑی وجوہات میں تیز رفتاری، خستہ حال اور سنگل لین سڑکیں، ٹریفک قوانین سے لاعلمی اور ڈرائیوروں کی غفلت کو قرار دیتے ہیں۔

WhatsApp
Get Alert