محکمہ سماجی بہبود میں بے ضابطگیاں، بورڈ آف انویسٹمنٹ کے کروڑوں روپے بینک میں منجمد؛ پی اے سی کا کارروائی کا حکم

کوئٹہ (قدرت روزنامہ)بلوچستان اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) نے محکمہ سماجی بہبود اور بلوچستان بورڈ آف انویسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ کے آڈٹ پیراز میں سنگین مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف کیا ہے۔ کمیٹی کے چیئرمین اصغر علی ترین کی زیرِ صدارت اجلاس میں گاڑیوں کی غیر مجاز خریداری، بغیر ٹینڈرنگ لاکھوں روپے کے اخراجات، اور بورڈ آف انویسٹمنٹ کی جانب سے کروڑوں روپے کے سرکاری فنڈز غیر مجاز طور پر بینک میں رکھنے پر سخت برہمی کا اظہار کیا گیا۔
اجلاس میں، جس میں ممبران کمیٹی، متعلقہ سیکرٹریز اور آڈٹ حکام نے شرکت کی، مالی سال 2020-21 کے دوران محکمہ سماجی بہبود کی جانب سے گاڑیوں کی خریداری پر 14.489 ملین روپے غیر مجاز طور پر خرچ کرنے کا انکشاف ہوا۔ قواعد کے مطابق خریداری سے قبل پروپراٹری سرٹیفکیٹ حاصل نہیں کیا گیا۔ کمیٹی نے ذمہ داران کا تعین کر کے ان کے خلاف کارروائی کرنے اور رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔
آڈٹ حکام نے مزید بتایا کہ مالی سال 2019 تا 2021 کے دوران محکمہ سماجی بہبود نے 10.082 ملین روپے کی خریداری کھلی ٹینڈرنگ کے بغیر کی، جو مالیاتی قواعد کی صریح خلاف ورزی ہے۔ محکمہ کے کووڈ سے متعلق مؤقف کو کمیٹی نے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ خلاف ورزیاں تین سال تک جاری رہنا ناقابل قبول ہے۔ کمیٹی نے آئندہ تمام خریداری پیپرا قواعد کے مطابق شفاف طریقے سے کرنے کی سختی سے ہدایت کی۔
اجلاس میں محکمہ سماجی بہبود کے غیر فعال کردار پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا گیا اور رولز آف بزنس 2012 کے تحت بنیادی فرائض کی عدم ادائیگی پر محکمہ سے وضاحت طلب کر لی گئی۔ چیئرمین کمیٹی اصغر علی ترین نے کہا کہ محکمہ کا بجٹ ناکافی ہے، کمیٹی بجٹ میں اضافے کے لیے کوششیں کرے گی۔
اجلاس کے دوسرے حصے میں بلوچستان بورڈ آف انویسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ کے آڈٹ پیراز پر بحث کی گئی۔ آڈٹ رپورٹ کے مطابق ادارے نے 2018 تا 2021 کے دوران 295.037 ملین روپے کی خطیر رقم بینک اکاؤنٹس میں غیر مجاز طور پر برقرار رکھی اور منافع حکومت کو جمع نہیں کرایا۔ کمیٹی نے قرار دیا کہ بجٹ کو بینک میں رکھنا اور استعمال نہ کرنا قواعد کی خلاف ورزی اور جرم ہے۔ کمیٹی نے ہدایت دی کہ آئندہ غیر استعمال شدہ بجٹ 15 مئی تک لازمی حکومت کو واپس کیا جائے۔
کمیٹی نے بورڈ کی جانب سے 2.122 ملین روپے کی ٹیکس کٹوتی نہ کرنے پر بھی برہمی کا اظہار کیا اور آڈٹ حکام کے ساتھ مل کر تمام بقایاجات کی سو فیصد وصولی یقینی بنانے کی ہدایت
