بلوچستان کا محکمہ صحت کرپشن پر پردہ ڈالنے میں مصروف ، 10 ارب کے آڈٹ پر 8 ماہ سے ریکارڈ غائب، پی اے سی کا نیب کو کیس بھیجنے کا عندیہ

ایک ہفتے میں ریکارڈ پیش نہ کیا تو افسران فارغ ہونگے، پبلک اکاؤنٹس کمیٹی


کوئٹہ( ڈیلی قدرت کوئٹہ ) بلوچستان اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) نے محکمہ صحت بلوچستان کی جانب سے اربوں روپے کی بے ضابطگیوں پر ریکارڈ فراہم نہ کرنے پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے محکمے کو ایک ہفتے کی آخری مہلت دے دی ہے۔
چیئرمین پی اے سی اصغر علی ترین کی زیر صدارت اجلاس میں اراکین کمیٹی نے اس بات پر سخت برہمی کا اظہار کیا کہ آٹھ ماہ گزرنے کے باوجود بھی محکمہ صحت کی طرف سے کوئی پیش رفت نہ ہونا اور ریکارڈ فراہم نہ کرنا انتہائی افسوسناک اور محکمے کی نااہلی کا ثبوت ہے۔
چیئرمین اصغر علی ترین نے سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ مالی نظم و ضبط اور شفافیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور جو افسر ریکارڈ فراہم نہیں کرے گا، اسے عہدے سے فارغ کر دیا جائے گا۔
پی اے سی نے محکمہ صحت کو آخری موقع دیتے ہوئے ہدایت کی کہ ایک ہفتے کے اندر تمام ریکارڈ، معاہدے اور اصل نقول کمیٹی کے سامنے پیش کی جائیں، بصورت دیگر تمام معاملات کو قومی احتساب بیورو (نیب) یا دیگر انویسٹی گیشن اداروں کے حوالے کر دیا جائے گا۔
اجلاس کے دوران اراکین کمیٹی نے زور دیا کہ مالی بدعنوانیوں اور غیر قانونی خریداریوں کی مکمل تحقیقات کر کے ذمہ داران کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ عوام کے پیسے کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے اور صحت کے شعبے میں شفافیت قائم رہے۔

WhatsApp
Get Alert