سول ہسپتال کوئٹہ میں بے قائدگیاں ‘ 30 ملین کی غیر قانونی خریداری، آرڈر ایک کو، ادائیگی دوسری کمپنی کو، حیران کن انکشافات

کوئٹہ( ڈیلی قدرت کوئٹہ ) بلوچستان اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کے اجلاس میں سنڈیمن پرووینشل (سول) ہسپتال کوئٹہ میں اربوں روپے کی مالی بے ضابطگیوں اور سنگین انتظامی بدنظمی کا انکشاف ہوا ہے۔
چیئرمین اصغر علی ترین کی زیر صدارت اجلاس میں پیش کی گئی اسپیشل آڈٹ رپورٹ کے مطابق، مالی سال 2017 تا 2022 کے دوران اسپتال انتظامیہ نے 30.016 ملین روپے مالیت کی ادویات خریدیں، لیکن سپلائی آرڈرز اور بلز میں شدید تضاد پایا گیا۔ ریکارڈ کے مطابق آرڈر ایک کمپنی کو جاری کیا گیا جبکہ ادائیگی کسی دوسری کمپنی کو کی گئی، جبکہ اسٹاک رجسٹر اور معائنے کی رپورٹس بھی موجود نہیں تھیں۔
رپورٹ میں یہ دل ہلا دینے والا انکشاف بھی کیا گیا کہ مالی سال 2019-20 کے دوران سول ہسپتال کے مرکزی اسٹور سے 22.825 ملین روپے (دو کروڑ 28 لاکھ روپے) مالیت کی ادویات غائب ہو گئیں۔ اس سنگین غفلت پر مؤقف اختیار کیا گیا کہ سابقہ فارماسسٹ نے بیماری کے باعث بروقت انٹریاں درج نہیں کیں، تاہم تشویشناک بات یہ ہے کہ اس فارماسسٹ کی جانب سے آج تک مکمل ریکارڈ جمع نہیں کرایا گیا۔
اس کے علاوہ، آکسیجن سلنڈرز کی زائد نرخوں پر خریداری سے حکومتی خزانے کو 1.342 ملین روپے کا نقصان پہنچایا گیا۔ آڈٹ رپورٹ میں بتایا گیا کہ معاہدے کے تحت سلنڈرز کی قیمت 537 روپے مقرر تھی، لیکن وبائی دور میں مارکیٹ سے 40 ہزار روپے فی سلنڈر کے ناقابل یقین نرخ پر خریداری کی گئی۔ مزید یہ کہ تمام کوٹیشنز ایک ہی تحریر میں تیار کی گئی تھیں، جس سے شفافیت پر سنگین سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔
کمیٹی نے ان تمام معاملات پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے وضاحت کو غیر تسلی بخش قرار دیا اور ذمہ دار افسران کی شناخت اور غفلت کے مرتکب اہلکاروں کے خلاف کارروائی اور انکوائری کر کے ایک ہفتے میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔
