امریکی ریاست ورجینیا کی لیفٹیننٹ گورنر بننے والی پہلی مسلمان خاتون غزالہ ہاشمی کو جانتے ہیں؟

ورجینیا(قدرت روزنامہ)امریکی ریاست ورجینیا میں ڈیموکریٹ رہنما غزالہ ہاشمی نے لیفٹیننٹ گورنر کا الیکشن جیت کر تاریخ رقم کر دی۔
وہ ریاست گیر سطح پر منتخب ہونے والی پہلی مسلمان خاتون بن گئی ہیں جبکہ انہوں نے ری پبلکن امیدوار جان ریڈ کو شکست دی جو ریاست کے پہلے ہم جنس پرست امیدوار تھے ۔
بھارتی نژاد غزالہ ہاشمی اپنی کامیابی کے بعد ورجینیا سینیٹ کی صدارت سنبھالیں گی اور ایوان میں برابری کی صورت میں فیصلہ کن ووٹ دینے کا اختیار رکھیں گی۔
ان کی نشست خالی ہونے کے بعد ڈیموکریٹس کو سینیٹ میں معمولی برتری حاصل ہوگی جس میں اب ان کی اکثریت صرف 20-19 کی رہے گی۔
ریچمنڈ کی سینیٹر غزالہ ہاشمی نے 2019 میں پہلی بار انتخابات جیت کر ریاستی سینیٹ میں شمولیت اختیار کی تھی، جہاں انہوں نے ایک ری پبلکن امیدوار کو شکست دے کر ایوان میں ڈیموکریٹس کو برتری دلانے میں اہم کردار ادا کیا۔ وہ سینیٹ میں منتخب ہونے والی پہلی مسلمان اور بھارتی نژاد امریکی خاتون بھی ہیں۔
Virginia state Sen. Ghazala Hashmi on Tuesday became the first Muslim-American woman elected to statewide office in the U.S. with her victory in the state's lieutenant governor's race, NBC News projects.https://t.co/F3ecWeetgs pic.twitter.com/VabysPbKYV
— NBC News (@NBCNews) November 5, 2025
انہوں نے اپنی انتخابی مہم میں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی پالیسیوں، بالخصوص مسلم امیگریشن پابندیوں (مسلم بین) کے خلاف ڈٹ جانے کا عزم ظاہر کیا تھا۔
ورجینیا ان 17 امریکی ریاستوں میں شامل ہے جہاں لیفٹیننٹ گورنر کا انتخاب براہِ راست ہوتا ہے یعنی گورنر اور لیفٹیننٹ گورنر مختلف جماعتوں سے بھی ہو سکتے ہیں تاہم گزشتہ 20 سال میں پہلی بار یہ امکان پیدا ہوا ہے کہ دونوں عہدوں پر مختلف جماعتوں کے نمائندے بیک وقت موجود ہوں۔
غزالہ ہاشمی نے جون 2025 میں ہونے والے ڈیموکریٹک پرائمری الیکشن میں پانچ حریفوں کو شکست دی اور محض 28 فیصد ووٹ حاصل کر کے کامیابی حاصل کی۔
بعد ازاں انہوں نے اپنی جماعت کے دیگر امیدواروں، گورنری امیدوار ابیگیل اسپین برگر اور اٹارنی جنرل کے امیدوار جے جونز کے ساتھ انتخابی مہم چلائی۔
البتہ جے جونز کے متنازع پیغامات منظر عام پر آنے کے بعد، ہاشمی نے ان کی مذمت تو کی مگر انہیں دستبردار ہونے کا مشورہ نہیں دیا جیسا کہ دیگر ڈیموکریٹس نے بھی یہی موقف اپنایا۔
انتخابی مہم کے دوران انہوں نے اپنے مخالف کی جانب سے لگائے گئے الزامات کو نظرانداز کیا اور کسی براہِ راست مباحثے میں شرکت نہیں کی۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق غزالہ ہاشمی کی جیت نہ صرف امریکی سیاست میں اقلیتوں کی شمولیت کے لیے ایک سنگ میل ہے بلکہ امریکی مسلم خواتین کے لیے ایک نئی تاریخ رقم کرتی ہے جو اب مرکزی سیاست میں اپنی آواز بلند کر رہی ہیں۔
