27ویں آئینی ترمیم وفاق کے خاتمے اور دائمی مارشل لا کے نفاذ کی کوشش ہے — پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی

کوئٹہ (ڈیلی قدرت) پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے مرکزی سیکریٹریٹ کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز میں 27ویں آئینی ترمیم کو استعماری اور غیر آئینی اقدام قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ ترمیم دراصل ملک میں دائمی مارشل لا کے نفاذ اور وفاقی آئینی ڈھانچے کی مکمل تباہی کی طرف ایک خطرناک پیش رفت ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ قیامِ پاکستان سے 2010ء تک مضبوط مرکز کے نام پر محکوم قوموں پر پنجاب کی بالادستی قائم رکھی گئی، چار مارشل لاؤں کے ذریعے پشتون، بلوچ، سندھی، سرائیکی اور دیگر قوموں کو ان کے حقِ حاکمیت، جمہوریت اور وسائل پر ملکیت سے محروم رکھا گیا۔ پارٹی نے کہا کہ قوموں اور جمہوری قوتوں کی طویل جدوجہد کے نتیجے میں 18ویں آئینی ترمیم کے ذریعے 110 آرٹیکلز میں تبدیلی کر کے صوبوں کو اختیارات دیے گئے، این ایف سی ایوارڈ کے تحت وسائل کی منصفانہ تقسیم ممکن ہوئی، اور تعلیم و صحت سمیت 47 محکمے صوبوں کے دائرہ اختیار میں آئے۔ یہ تاریخی کامیابی اب نام نہاد ملک گیر پارٹیوں اور استعماری اسٹیبلشمنٹ کی ملی بھگت سے 26ویں اور 27ویں ترامیم کے ذریعے ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جس میں پیپلز پارٹی کا کردار نہایت افسوسناک ہے۔
پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے کہا کہ پاکستان دراصل پشتون، بلوچ، سندھی، سرائیکی اور پنجابی قوموں پر مشتمل ایک رضاکارانہ وفاق ہے جو 1940ء کی قراردادِ لاہور کے تحت قومی برابری کی بنیاد پر قائم ہوا۔ وفاقی پارلیمانی ڈھانچے میں بنیادی تبدیلی کا اختیار کسی پارلیمنٹ کو بھی حاصل نہیں۔ پارٹی کے مطابق فارم 47 کے ذریعے قائم کی گئی غیر نمائندہ پارلیمنٹ کو 18ویں ترمیم ختم کرنے یا وفاقی اکائیوں کے اختیارات چھیننے کا کوئی جواز نہیں۔ موجودہ آئین کے مطابق وفاقی محصولات میں صوبوں کا حصہ 57.5 فیصد ہے، جو ہر نئے این ایف سی ایوارڈ میں 80 فیصد تک بڑھایا جانا ضروری ہے، جبکہ تیل، گیس اور معدنی وسائل پر صوبوں کو مساوی حقِ ملکیت حاصل ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ 18ویں ترمیم نے وفاق، صوبوں، عدلیہ اور میڈیا کے اختیارات کی واضح حد بندی کی تھی، لیکن اسٹیبلشمنٹ اب ایک ہائبرڈ نظام کے ذریعے غیر آئینی عدالت کے قیام، این ایف سی ایوارڈ کے خاتمے، فیلڈ مارشل کو آئینی حیثیت دینے، غیر آئینی الیکشن کمیشن مسلط کرنے، تعلیم و صحت کے محکمے واپس لینے اور مجسٹریٹ نظام بحال کرنے جیسے اقدامات سے دوبارہ استعماری بالادستی قائم کرنا چاہتی ہے۔ پارٹی نے خبردار کیا کہ 27ویں ترمیم آئین کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوگی، اور اگر یہ اقدام واپس نہ لیا گیا تو ملک کی محکوم اقوام نئے عمرانی معاہدے کے ذریعے آئینِ پاکستان کی ازسرنو تشکیل کا مطالبہ کریں گی — ایسا آئین جس میں قومی اسمبلی میں تمام قوموں کی برابر نشستیں ہوں، فوج میں مساوی نمائندگی دی جائے، ہر اکائی کا اپنا سپریم کورٹ ہو اور دفاع، خارجہ، کرنسی و مواصلات کے علاوہ تمام اختیارات وفاقی اکائیوں کے پاس ہوں۔
