بلوچستان ہائی کورٹ کا بڑا فیصلہ — زیرِ تعلیم افغان طلبا کو امتحانات تک بے دخلی یا کارروائی سے روک دیا گیا


اسلام آباد (قدرت روزنامہ) بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس روزی خان بڑیچ اور جسٹس سردار احمد حلیمی پر مشتمل ڈویژن بنچ نے افغان مہاجرین کے انخلا اور افغانستان واپسی سے متعلق دائر آئینی درخواست کی سماعت کے دوران زیرِ تعلیم افغان طلبا و طالبات کے خلاف امتحانات تک کسی بھی قسم کی کارروائی سے روک دیا ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 25(A) کے تحت تعلیم حاصل کرنا ہر شخص کا بنیادی حق ہے، اور انتظامیہ کو ہدایت کی کہ افغان طلبا و طالبات کو کسی قسم کی پریشانی یا ہراسانی کا نشانہ نہ بنایا جائے۔
سماعت کے دوران درخواست گزار سید نذیر آغا ایڈووکیٹ، وفاق کی جانب سے ایڈیشنل اٹارنی جنرل محمد فرید ڈوگر، ملک نسیم انور کاسی، اور صوبائی حکومت کے اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل ظہور احمد بلوچ پیش ہوئے۔ درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ بڑی تعداد میں افغان طلبا بلوچستان کے مختلف تعلیمی اداروں میں زیرِ تعلیم ہیں، جبکہ سالانہ امتحانات کے انعقاد میں کم وقت باقی ہے۔ ایسے حالات میں انخلا یا جبری واپسی سے ان طلبا کا پورا تعلیمی سال ضائع ہو سکتا ہے۔
سید نذیر آغا نے مؤقف اپنایا کہ افغان مہاجرین کے ساتھ روا رکھے جانے والے رویوں سے ان کی عزتِ نفس مجروح ہو رہی ہے، لہٰذا پولیس اور دیگر اداروں کو بھی ہدایات جاری کی جائیں کہ وہ انسانی وقار کا احترام کریں۔ عدالت نے ان خدشات کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے حکم دیا کہ انتظامیہ افغان طلبا کو تنگ نہ کرے اور ان کی تعلیم کے حق کو یقینی بنایا جائے۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ افغان شہری، جن کی شادیاں پاکستانی شہریوں سے ہو چکی ہیں، وہ پاکستان سٹیزن شپ ایکٹ 1951 کے تحت شہریت کے حقدار ہیں، اور افغان مہاجرین کی جبری بے دخلی آئین کے آرٹیکلز 2A، 9، 25 اور 25A سے متصادم ہے۔ عدالت نے آئینی درخواست کی مزید سماعت آئندہ تاریخ تک ملتوی کر دی۔

WhatsApp
Get Alert