افغان کڈوال عوام سے غیر انسانی سلوک ناقابلِ برداشت، اقوامِ متحدہ اور عالمی ادارے فوری نوٹس لیں — پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی

کوئٹہ (ڈیلی قدرت) پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے صوبائی سیکریٹریٹ کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ کوئٹہ اور جنوبی پشتونخوا کے مختلف شہروں میں افغان کڈوال عوام کے ساتھ جاری غیر انسانی اور ظالمانہ سلوک انتہائی شرمناک ہے اور یہ تمام بین الاقوامی انسانی اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ افغان کڈوال بستیوں کا محاصرہ کر کے خواتین، بچوں اور بزرگوں کو جس بے دردی کے ساتھ اٹھایا جا رہا ہے، وہ انسانیت کے نام پر ایک بدنما داغ ہے۔ یہ طرزِ عمل کسی بھی مہذب معاشرے میں ناقابلِ قبول ہے۔
پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے اقوامِ متحدہ، یو این ایچ سی آر (UNHCR)، ایمنسٹی انٹرنیشنل اور دیگر عالمی انسانی حقوق کے اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ اس انسانیت سوز طرزِ عمل کا فوری نوٹس لیں اور حکومتِ پاکستان و متعلقہ انتظامیہ کو ایسے غیر قانونی اقدامات سے روکیں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ پولیس، لیویز اور انتظامیہ کی جانب سے افغان کڈوال عوام کی بے دخلی، جائیدادوں پر قبضے اور گرفتار شدگان سے رشوت طلب کرنے جیسے اقدامات انتہائی شرمناک اور ناقابلِ برداشت ہیں۔ یہ طرزِ عمل انسانی وقار کی توہین اور ملکی و بین الاقوامی انسانی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
پارٹی نے واضح کیا کہ افغان کڈوال عوام گزشتہ نصف صدی سے بلوچستان اور ملک کی ترقی، تجارت اور معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ صوبے بھر میں ہزاروں افغان تاجر، مزدور، کاریگر اور سرمایہ کار روزانہ کروڑوں روپے کا کاروبار کر کے ملکی معیشت کو سہارا دے رہے ہیں۔ ان کی خدمات کو نظر انداز کرنا تاریخ سے انکار کے مترادف ہے۔
پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کیا کہ سہ فریقی معاہدے (پاکستان، افغانستان، UNHCR) پر مکمل عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے اور افغان کڈوال عوام کے انسانی و قانونی حقوق کا احترام کیا جائے۔ پارٹی نے 1951ء کے سٹیزن ایکٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جو بچے پاکستان میں پیدا ہوئے ہیں، انہیں شہریت دینا ان کا بنیادی حق ہے۔
بیان کے آخر میں پارٹی نے تمام جمہوریت پسند سیاسی جماعتوں، انسانی حقوق کے کارکنوں، وکلا برادری، سول سوسائٹی اور باشعور عوام سے اپیل کی کہ وہ افغان کڈوال عوام کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کے خلاف متحد ہو کر آواز بلند کریں اور انسانیت دشمن پالیسیوں کو مسترد کرتے ہوئے انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے عملی جدوجہد کو تیز کریں۔
