بلوچستان میں لیویز کو پولیس میں ضم کرنے کا فیصلہ تاریخی اصلاحات کی جانب اہم قدم ہے، ظہور بلیدی

کوئٹہ (قدرت روزنامہ)پاکستان پیپلز پارٹی کے صوبائی وزیر برائے پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ میر ظہور بلیدی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ “ایکس” پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ بلوچستان کے عوام کا اصل مسئلہ لیویز اور پولیس کی جداگانہ حیثیت نہیں بلکہ کئی دہائیوں سے مثر طرزِ حکمرانی کا فقدان ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کے موجودہ حالات اور جدید پولیسنگ کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے یکساں چین آف کمانڈ وقت کی اہم ضرورت بن چکی ہے۔میر ظہور بلیدی نے کہا کہ برٹش راج کے دور میں رابرٹ سنڈیمن کے ذریعے تشکیل پانے والا 140 سال پرانا قبائلی طرزِ حکمرانی اور پولیسنگ کا نظام اب اپنی افادیت کھو چکا ہے، لہذا صوبائی حکومت نے نظامِ قانون کی عملداری کو مثر بنانے اور گڈ گورننس کو بہتر کرنے کے لیے اہم اصلاحاتی فیصلے کیے ہیں۔انہوں نے وضاحت کی کہ لیویز فورس کو پولیس میں ضم کرنے اور بی ایریاز کو اے ایریاز میں تبدیل کرنے کا حکومتی فیصلہ صوبے میں امن و امان، شفافیت اور ادارہ جاتی استحکام کے قیام کی جانب ایک تاریخی اقدام ہے، جس کے نتیجے میں صوبے بھر میں یکساں قانون نافذ کرنے والا نظام قائم ہوگا، گڈ گورننس اور احتساب کو تقویت ملے گی، جدید پولیسنگ ماڈل نافذ ہوگا اور وسائل کا مثر استعمال ممکن بنے گا۔انہوں نے کہا کہ یہ اصلاحات بلوچستان میں امن و استحکام اور مثر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے قیام کی سمت ایک مثبت قدم ہیں۔ تاہم بعض حلقے جو اس قدیم قبائلی نظام سے فائدہ اٹھاتے رہے ہیں، ذاتی مفادات کے تحت اس عمل کو رول بیک کرنے کی خواہش رکھتے ہیں جن کی حوصلہ افزائی کے بجائے حوصلہ شکنی کی جانی چاہیے۔
