ملک بھر میں مہنگائی کی نئی لہر، کوئٹہ سمیت شہریوں کی قوتِ خرید زمین بوس ہوگئی
اشیائے خورد و نوش کی قیمتیں آسمان چھو رہی ہیں،ٹماٹر 127، چینی 35، مکھن 30فیصد اضافہ

پرائس کنٹرول کمیٹیوں کو فعال کیا جائے، ذخیرہ اندوزوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے،شہریوں کا مطالبہ
اکتوبر 2025 میں مہنگائی کی مجموعی شرح 24.8 فیصد، ماہرین نے سیلاب، سرحدی رکاوٹیں اور خام مال کی قیمتیں بنیادی وجہ قرار دی
کوئٹہ(قدرت روزنامہ)صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سمیت پاکستان کے مختلف شہروں میں اشیائے خورد و نوش کی بڑھتی قیمتوں نے عام شہری اور متوسط طبقے کو شدید مالی دبا میں مبتلا کر دیا ہے۔ خبر رساں ادارے یو این اے کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ ایک سال (اکتوبر 2024 تا اکتوبر 2025) کے دوران متعدد بنیادی غذائی اشیا کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔
اہم اشیائے خور و نوش اور ان میں سالانہ اضافہ درج ذیل ہے:ٹماٹر: 127چینی: 35گندم: 23آٹا: 15.7مکھن: 30دال مونگ: 20ویجیٹیبل گھی: 12.5شہد: 18رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ اضافہ ملک بھر کے مختلف علاقوں میں طلب و رسد، فاصلہ اور ٹرانسپورٹ لاگت کے لحاظ سے کچھ فرق کے ساتھ دیکھنے میں آیا ہے، لیکن عمومی رجحان یہ ہے کہ خوراک کی اشیا کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں۔
اکتوبر 2025 میں مہنگائی کی مجموعی شرح (CPI) بڑھ کر 24.8 فیصد تک جا پہنچی، جو گزشتہ ماہ ستمبر میں 5.6 فیصد تھی۔ ماہرین کے مطابق قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجوہات میں حالیہ سیلاب کے باعث زرعی پیداوار میں کمی، سرحدی تجارت میں رکاوٹیں، درآمدی خام مال اور ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتیں، ٹرانسپورٹ کرایوں میں اضافہ اور مقامی منڈیوں میں ذخیرہ اندوزی شامل ہیں۔
رپورٹ میں چند اشیا کی قیمتوں میں معمولی کمی بھی ریکارڈ کی گئی، جن میں پیاز، چکن، دال چنا، بیسن، آلو اور چائے کی پتی شامل ہیں، تاہم یہ کمی مجموعی مہنگائی کے بوجھ کو کم کرنے کے لیے ناکافی ہے۔
شہریوں نے اشیائے خورد و نوش کی بڑھتی قیمتوں پر گہری تشویش ظاہر کی اور وفاقی و صوبائی حکومتوں سے پرائس کنٹرول کمیٹیوں کو فعال کرنے، مارکیٹ چیکنگ بڑھانے اور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر موجودہ حالات برقرار رہے تو سال کے اختتام تک بنیادی خوراکی اشیا کی قیمتیں مزید 10 سے 15 فیصد تک بڑھ سکتی ہیں، جس سے عام شہری کی زندگی مزید مشکل ہو جائے گی۔
