کوئٹہ میں ٹریفک جام، سڑکوں کی بندش اور شہری اذیت ناقابلِ برداشت بن چکی — ماڈل روڈ کی بندش اور بلیلی چیک پوسٹ سے شہر تک قائم چیک پوسٹوں نے شہری نقل و حرکت کو محدود کر دیا ہے ، پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی


کوئٹہ (قدرت روزنامہ)پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے کوئٹہ میں بڑھتے ہوئے ٹریفک جام، سڑکوں کی بندش اور شہریوں کو درپیش سنگین مشکلات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہر کا ٹریفک نظام مکمل طور پر مفلوج ہو چکا ہے۔ پارٹی کے بیان میں کہا گیا کہ عالمو چوک، بی اے مال، سرینا چوک، سریاب روڈ اور زرغون روڈ سمیت شہر کی اہم شاہراہیں روزانہ بدترین ٹریفک جام کا شکار رہتی ہیں، جس کے باعث طلبہ، سرکاری ملازمین، مریض اور تاجر طبقہ شدید اذیت میں مبتلا ہیں۔ ماڈل ٹاؤن کے قریب دہشت گردی کے واقعے کے بعد ماڈل روڈ کی بندش اور بلیلی چیک پوسٹ سے شہر تک قائم ایف سی کی چیک پوسٹوں نے شہری نقل و حرکت کو مزید محدود کر دیا ہے۔ پارٹی نے تجویز دی کہ سیکیورٹی کے پیشِ نظر ایف سی ہیڈکوارٹر کو موجودہ مقام سے کینٹ منتقل کیا جائے تاکہ عوامی آمد و رفت آسان ہو اور ٹریفک کا بہاؤ بحال کیا جا سکے۔ بیان میں کہا گیا کہ بلیلی روٹ سے آنے والی گاڑیوں کے باعث پورا پشتون علاقہ متاثر ہے اور شہری گھنٹوں گاڑیوں میں پھنسے رہتے ہیں۔ پارٹی نے بعض ٹریفک اہلکاروں کے غیر ضروری رویے پر بھی نکتہ چینی کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر ٹریفک مینجمنٹ بیورو قائم کیا جائے اور مؤثر پالیسی کے ذریعے عوامی مشکلات کا مستقل حل نکالا جائے تاکہ کوئٹہ کے شہری سکون اور سہولت کے ساتھ اپنی روزمرہ زندگی گزار سکیں۔ — پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی

WhatsApp
Get Alert