بلوچستان لیویز فورس کے اخراجات کا ریکارڈ غائب، کروڑوں روپے بغیر ٹینڈر کے خرچ — پی اے سی نے مکمل انکوائری کا حکم دے دیا

کوئٹہ (قدرت روزنامہ)پبلک اکاونٹس کمیٹی (پی اے سی)کا اجلاس چیئرمین اصغر علی ترین کی زیرصدارت منعقد ہوا، جس میں کمیٹی کے ارکان زمرک خان اچکزئی، غلام دستگیر بادینی اور ولی محمد نورزئی، سیکرٹری اسمبلی طاہر شاہ کاکڑ، ڈائریکٹر جنرل لیویز عبدالغفار مگسی، ایڈیشنل سیکرٹری پی اے سی سراج لہڑی، ایڈیشنل سیکرٹری لا سعید اقبال، ڈائریکٹر آڈٹ بلوچستان سید قدیم آغا اور چیف اکانٹس آفیسر سید ادریس آغا نے شرکت کی۔اجلاس میں لیویز فورس کے مختلف آڈٹ پیراز پر غور کیا گیا اور کمیٹی نے متعلقہ محکمے کی جانب سے جوابات بروقت نہ جمع کروانے پر سخت عدم اطمینان کا اظہار کیا۔ ہدایت دی گئی کہ جوابات فوری طور پر پیش کیے جائیں۔ اراکین نے 2022 سے اب تک محکمے کو فراہم کی گئی فنڈنگ اور اخراجات کی مکمل تفصیلات طلب کیں، اور بجٹ کا موازنہ متعلقہ اضلاع کے رقبے اور ورکنگ ایریا کے مطابق کرنے کی ہدایت دی گئی۔اجلاس میں بتایا گیا کہ آفس آف ڈی جی لیویز فورس بلوچستان نے نیشنل بینک، شاہراہِ اقبال کوئٹہ میں بغیر محکمہ خزانہ کی منظوری کے بینک اکانٹ قائم کیا، جس میں 13.969 ملین روپے رکھے گئے، جو مالی سال کے اختتام تک خزانے میں جمع نہیں کرائے گئے۔ پی اے سی نے سختی سے ہدایت کی کہ اکانٹ فوری طور پر بند کیا جائے اور رقم سرکاری خزانے میں جمع کرائی جائے۔مزید برآں، ڈی جی لیویز کے زیرِ انتظام مختلف زونل دفاتر اور ٹریننگ سینٹر خضدار نے 240.80 ملین روپے کے اخراجات کا ریکارڈ آڈٹ حکام کو فراہم نہیں کیا، جبکہ 2019 تا 2021 کے دوران گاڑیوں کی فیبریکیشن اور خوراک کی خریداری پر 105.099 ملین روپے خرچ کیے گئے، جن میں کسی قسم کا اوپن ٹینڈر نہیں کیا گیا۔ کمیٹی نے یہ مالی بے ضابطگی قرار دیتے ہوئے فوری باقاعدہ منظوری کا حکم دیا۔اجلاس کے اختتام پر کمیٹی نے اس امر پر تشویش ظاہر کی کہ اگرچہ لیویز فورس کو پولیس میں ضم کر دیا گیا، لیکن صرف چمن اور ڈیرہ بگٹی میں بھرتیاں ہو رہی ہیں جبکہ دیگر اضلاع میں بھی خالی آسامیاں موجود ہیں۔ کمیٹی نے اس حوالے سے محکمہ اور چیف سیکرٹری سے وضاحت طلب کی ہے۔
