بلوچستان چائلڈ میریجز ریسرینٹ بل 2025 : کم عمری کی شادی پر سخت قانون نافذ—شادی کی کم از کم عمر 18 سال، خلاف ورزی پر قید و جرمانہ


کوئٹہ(قدرت روزنامہ)بلوچستان اسمبلی سے منظور ہونے والے بلوچستان چائلڈ میریجز ریسرینٹ بل 2025 کی تفصیلات جاری کر دی گئی ہیں، جس کے تحت صوبے میں کم عمری، جبری یا روایتی بنیادوں پر ہونے والی شادیوں کی روک تھام کے لیے جامع قانونی فریم ورک نافذ کر دیا گیا ہے۔ بل کے مطابق شادی کے لیے کم از کم قانونی عمر 18 سال مقرر کی گئی ہے، جبکہ نابالغ کی شادی کرنے، کرانے یا اس میں معاونت کرنے پر کم از کم 3 ماہ سے 3 سال تک قید اور بھاری جرمانے کی سزا رکھی گئی ہے۔ نکاح رجسٹراروں کو دلہا دلہن کی عمر کی تصدیق لازم قرار دی گئی ہے، اور والدین، سرپرست، رشتہ دار یا قبیلے/برادری کا کوئی فرد بھی کم عمری کی شادی میں کردار ادا کرنے پر سزا کا مستحق ہوگا۔ حکومت نے اس مقصد کے لیے خصوصی چائلڈ پروٹیکشن یونٹس قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جو ہنگامی مداخلت کے اختیارات کے ساتھ کم عمر شادیوں کی روک تھام یقینی بنائیں گے۔ بل میں واضح کیا گیا ہے کہ کم عمری کی شادی بچوں، خصوصاً بچیوں کی تعلیم، صحت، ذہنی نشوونما اور بنیادی انسانی حقوق کو متاثر کرتی ہے، لہٰذا اس قانون کا مقصد قبائلی و سماجی دباؤ پر مبنی بچپن کی شادیوں کا خاتمہ اور بچوں کو بہتر مستقبل، تعلیم اور محفوظ ماحول فراہم کرنا ہے۔ انسانی حقوق کے ماہرین اور سماجی تنظیموں نے اس قانون سازی کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے صوبے میں بچوں کے حقوق کے تحفظ کی سمت ایک تاریخی پیش رفت قرار دیا ہے۔

WhatsApp
Get Alert