سوئی سدرن کے خلاف کیس؛ گیس بلوں میں اضافے اور لوڈشیڈنگ پر ہائی کورٹ برہم، چیئرمین کمپنی 11 دسمبر کو طلب

کوئٹہ(قدرت روزنامہ)بلوچستان ہائی کورٹ میں سوئی سدرن گیس کمپنی کے خلاف جاری کیس کی سماعت کے بعد سپریم کورٹ کے وکیل سید نزیر آغا ایڈوکیٹ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ عوامی شکایات پر مبنی یہ کیس 2021 سے زیر التوا ہے، جس میں گیس بلوں میں بے ضابطگیوں اور طویل لوڈشیڈنگ کے سنگین مسائل اٹھائے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عدالت نے دو سال قبل کوئٹہ میں بچھائی گئی 16 انچ اور 12 انچ نئی پائپ لائنوں کے منصوبوں کے باعث مختلف علاقوں میں غیر معمولی بلنگ اضافے کا سخت نوٹس لیا ہے اور حکم دیا ہے کہ جہاں گیس فراہم نہیں کی جا رہی یا بل غیر معمولی حد تک زیادہ آئے ہیں، ان صارفین کے مسائل فوری حل کیے جائیں۔ عدالت نے سردی کے موسم میں عوام کو ریلیف دینے کے لیے وقتی طور پر لوڈشیڈنگ میں کمی کی ہدایت بھی جاری کی۔ سید نزیر آغا نے بتایا کہ کیس کی اگلی سماعت 11 دسمبر کو مقرر ہے جس میں چیئرمین سوئی سدرن سمیت تمام متعلقہ حکام کو پیش ہونے کا حکم دیا گیا ہے تاکہ عملی اقدامات کی پیش رفت عدالت کے روبرو پیش کی جا سکے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ اگر عوامی مسائل حل نہ ہوئے تو وہ دوبارہ ہائی کورٹ میں درخواست دائر کریں گے، کیونکہ عوام کو درست بلنگ اور بلا تعطل گیس فراہمی یقینی بنانا اولین ترجیح ہے۔